مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اے آئی گورننس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ناگزیر ہے

اے آئی گورننس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ناگزیر ہے (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی زیر صدارت “آرٹیفیشل انٹیلی جنس گورننس: اصول، اخلاقیات، خطرات اور ریگولیٹری تیاری” کے موضوع پر ایک اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد کاروباری برادری کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، گورننس فریم ورک، اخلاقی تقاضوں اور ابھرتے ہوئے ریگولیٹری تقاضوں سے آگاہ کرنا تھا۔ ورکشاپ میں ٹیک گورننس انٹیلی جنس کے بانی و ایگزیکٹو ڈائریکٹر شکیل اے میاں نے تفصیلی پریزنٹیشن دی اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ، محفوظ اور شفاف نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک منظم اے آئی گورننس فریم ورک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔

مصنوعی ذہانت اور کاروباری ترقی

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے کاروباری طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے اور اس میں پیداواری صلاحیت، جدت، فیصلہ سازی اور مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی وسیع استعداد موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح دہشت گردی کو اس کی تمام اقسام اور مظاہر کو قابل مذمت قرار دیا جانا چاہیئے، اسی طرح ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر اخلاقی استعمال کے خطرات کو بھی منظم گورننس کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری کو ابھرتے ہوئے اے آئی قوانین سے آگاہی حاصل کرنا ہوگی تاکہ پاکستانی کاروباری ادارے ممکنہ خطرات کو کم کرتے ہوئے اسے اعتماد کے ساتھ اپنا سکیں۔

اے آئی گورننس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ناگزیر ہے (تصویر 2)

موثر گورننس اور انسانی نگرانی

شکیل اے میاں نے وضاحت کی کہ مؤثر اے آئی گورننس کے لیے واضح جوابدہی، رسک بیسڈ مینجمنٹ، اور بین الاقوامی ریگولیٹری فریم ورکس سے ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سسٹمز خود جوابدہ نہیں ہو سکتے، لہذا ان کی حتمی ذمہ داری انسانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے انسانی نگرانی کے نظام، مداخلت اور فیصلے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت (override capabilities) کو اہم قرار دیا۔ ورکشاپ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پمز نرسری سانحہ: مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کیے جائیں کی طرز پر، ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی حادثات سے بچنے کے لیے کڑی نگرانی ضروری ہے۔

ڈیٹا کی اہمیت اور سائبر سکیورٹی

پریزنٹیشن میں ڈیٹا کے معیار، درستگی اور رازداری کو اے آئی ماڈلز کی کامیابی کا راز قرار دیا گیا۔ مقرر نے کہا کہ آئی ٹی کنٹرولز، ماڈل کی مضبوطی اور سائبر سکیورٹی کے حفاظتی اقدامات کے بغیر اے آئی سسٹمز پر اعتماد ممکن نہیں ہے۔ ورکشاپ میں تعصب (Bias) کی جانچ اور منصفانہ نتائج کی توثیق پر بھی خصوصی زور دیا گیا تاکہ اے آئی سسٹمز غیر امتیازی نتائج فراہم کر سکیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جن سسٹمز کا مؤثر آڈٹ نہ کیا جا سکے، ان پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ٹریس ایبلٹی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں