پاکستانی سیاحوں کی آذربائیجان آمد میں نمایاں اضافہ، تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر گئی: سفیر قاسم محی الدین

پاکستانی سیاحوں کی آذربائیجان آمد میں نمایاں اضافہ، تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر گئی: سفیر قاسم محی الدین
باکو، 3 ستمبر: آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر قاسم محی الدین نے کہا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان فضائی، زمینی اور لاجسٹکس روابط میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا ہے۔
آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی AZERTAC سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصاً کمرشل ایوی ایشن اور لاجسٹکس کے شعبوں میں ٹرانسپورٹ روابط میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی دو ایئرلائنز، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور ایئربلیو، جبکہ آذربائیجان کی قومی ایئرلائن AZAL اسلام آباد اور لاہور سے باکو کے لیے متعدد براہ راست پروازیں چلا رہی ہیں۔

قاسم محی الدین نے کہا کہ عملی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تقریباً روزانہ براہ راست فضائی رابطہ موجود ہے، جس سے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان سفر مزید آسان اور سہل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر فضائی رابطوں کے باعث سیاحت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ سال آذربائیجان آنے والے پاکستانی سیاحوں کی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
زمینی رابطوں کے حوالے سے سفیر نے بتایا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ (TTA) موجود ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی ترسیل اور ٹرانزٹ تجارت کے لیے تیز رفتار اور کم لاگت زمینی راہداری فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان زمینی تجارت کے راستے ایران یا افغانستان کے ذریعے، پھر ترکمانستان اور وہاں سے بحیرہ کیسپین کے راستے آذربائیجان تک پہنچتے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے امید ظاہر کی کہ ایران میں صورتحال مستحکم ہونے کے بعد اس تجارتی شعبے کے ذریعے اشیا کی آمدورفت میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ ملے گا۔