مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور، نئے صوبوں پر بحث جاری

سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور، نئے صوبوں پر بحث جاری

سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور، نئے صوبوں پر بحث جاری

کراچی، 3 ستمبر: سندھ اسمبلی نے صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی، جبکہ ایوان میں نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم سے متعلق بحث چوتھے روز بھی جاری رہی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں اور اس حوالے سے فیصلہ سندھ میں ہی ہوگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اس معاملے پر واضح ہوجائے گا کہ کون سندھ کے ساتھ کھڑا ہے اور کون دوغلا پن کر رہا ہے۔ سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ون یونٹ کے قیام کے وقت بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ انہوں نے لاہور میں ایک پروگرام کے دوران ’’دی سسٹم ہیز کولیپسڈ‘‘ کے نعرے اور اس پر بجنے والی تالیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز پر ہونے والی گفتگو تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کریں گے؟

ایم کیو ایم پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ مصطفیٰ کمال انتظامی یونٹس کی بات کرتے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ کی تقسیم نہ کرنے کی بات کرتے ہیں، یہ دوغلا پن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے موجودہ ارکان میں سے کسی ایک نے بھی عوام کے ووٹ سے کامیابی حاصل نہیں کی اور بعض ارکان مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچے۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے سندھ کی وحدت پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے، تاہم صوبے میں مسلسل کرپشن اور بدانتظامی کے باعث نئے انتظامی یونٹس کی بات کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ناانصافی کا سلسلہ ختم کیا جاسکے۔

ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی نے کہا کہ بحث کے دوران اپوزیشن یا حکومتی بینچز میں سے کسی نے بھی سندھ کی تقسیم کی حمایت نہیں کی، جس سے واضح ہے کہ ایوان میں سندھ کی تقسیم کے خلاف اتفاق رائے موجود ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن صابر قائم خانی نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ہم میں اور آپ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ہم سندھ کا کھاتے ہیں، آپ سندھ کو کھاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سینئر اراکین کی موجودگی میں ان کی رائے تھی کہ پہلے کی طرح دوبارہ قرارداد لائی جائے۔ اگر قرارداد پہلے ہی ایجنڈے پر لائی جاتی تو شاید اتنی تفصیلی بحث کی ضرورت پیش نہ آتی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں