مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

برطانوی یونیورسٹیوں میں غیرملکی طلبہ کو راغب کرنے کی دوڑ، فیس میں ہزاروں پاؤنڈ تک کمی

برطانوی یونیورسٹیوں میں غیرملکی طلبہ کو راغب کرنے کی دوڑ، فیس میں ہزاروں پاؤنڈ تک کمی

برطانوی یونیورسٹیوں میں غیرملکی طلبہ کو راغب کرنے کی دوڑ، فیس میں ہزاروں پاؤنڈ تک کمی

لندن: برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی اور مالی مشکلات کے باعث غیرملکی طلبہ کو دوبارہ اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے ٹیوشن فیس میں نمایاں رعایتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے، بعض جامعات کی جانب سے فیس میں 8 ہزار پاؤنڈ تک کمی کی پیشکش کی جارہی ہے۔

فنانشل ٹائمز، وی این ایکسپریس لندن کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی 90 جامعات کے جائزے میں کم از کم 22 جامعات ایسی ہیں جو بین الاقوامی طلبہ کے لیے ماسٹرز اور دیگر پوسٹ گریجویٹ پروگراموں کی فیس میں خودکار رعایت فراہم کررہی ہیں۔ ان رعایتوں کے لیے طلبہ کو الگ سے وظیفے کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ رعایتی رقم براہِ راست ٹیوشن فیس سے منہا کردی جاتی ہے۔

ایبرڈین یونیورسٹی نے بین الاقوامی پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے 8 ہزار پاؤنڈ تک کی سب سے نمایاں رعایت کا اعلان کیا ہے۔ کینٹ یونیورسٹی 14 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ماسٹرز پروگراموں کی فیس میں 5 ہزار پاؤنڈ تک رعایت دے رہی ہے، جبکہ ناٹنگھم یونیورسٹی نے 2026 میں داخلہ لینے والے بعض غیرملکی ماسٹرز طلبہ کے لیے 3 ہزار پاؤنڈ کی خودکار فیس رعایت متعارف کرائی ہے۔

ناٹنگھم یونیورسٹی میں ایک سالہ ماسٹرز پروگراموں کی بین الاقوامی طلبہ کے لیے فیس مختلف شعبوں کے لحاظ سے تقریباً 9 ہزار 700 سے 39 ہزار 600 پاؤنڈ تک ہے۔ ایسے پروگراموں میں 3 ہزار پاؤنڈ کی رعایت طلبہ کے مجموعی تعلیمی اخراجات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جامعات کی جانب سے دی جانے والی موجودہ رعایتیں روایتی میرٹ پر مبنی وظائف سے مختلف ہیں۔ ماضی میں وظائف محدود تعداد میں طلبہ کو مخصوص شرائط پوری کرنے پر دیے جاتے تھے، تاہم اب بعض جامعات وسیع پیمانے پر خودکار فیس رعایتیں فراہم کررہی ہیں تاکہ بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں کمی کو پورا کیا جاسکے۔

برطانیہ میں غیرملکی طلبہ کی تعداد میں کمی کی ایک اہم وجہ حکومت کی جانب سے ویزا پالیسی میں کی جانے والی تبدیلیاں بھی قرار دی جارہی ہیں۔ برطانوی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 تک ایک سال کے دوران غیرملکی طلبہ کے لیے 3 لاکھ 83 ہزار اسپانسر شدہ تعلیمی ویزے جاری کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد کم اور جون 2023 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں 41 فیصد کم ہیں۔

برطانوی حکومت نے جنوری 2024 سے زیادہ تر بین الاقوامی طلبہ کے لیے اپنے شریک حیات اور بچوں کو زیرِ کفالت افراد کی حیثیت سے برطانیہ لانے پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔ اس پالیسی کے نتیجے میں طلبہ کے زیرِ کفالت افراد کے ویزوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کے اثرات مجموعی طلبہ ہجرت پر بھی پڑے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 تک ایک سال کے دوران مرکزی غیرملکی طلبہ کے لیے 3 لاکھ 66 ہزار ویزے جاری ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد کم ہیں۔ چین اور بھارت سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس فہرست میں سرفہرست رہے، جنہیں بالترتیب تقریباً 86 ہزار اور 83 ہزار ویزے جاری کیے گئے۔

پاکستانی طلبہ بھی برطانوی اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے ایک اہم گروپ ہیں۔ جون 2025 تک کے برطانوی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہریوں کو 37 ہزار 13 مرکزی طلبہ کے ویزے جاری کیے گئے تھے، جو مجموعی طلبہ ویزوں کا تقریباً 9 فیصد بنتے ہیں۔ اسی عرصے میں پاکستانی طلبہ کے ویزوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب بین الاقوامی طلبہ میں کمی نے برطانوی جامعات کی مالی صورتحال پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں پوسٹ گریجویٹ پڑھائے جانے والے پروگراموں سے حاصل ہونے والی ٹیوشن فیس 2023-24 میں تقریباً 5.5 ارب پاؤنڈ سے کم ہوکر 2024-25 میں تقریباً 5 ارب پاؤنڈ رہ گئی۔

برطانوی جامعات کے لیے بین الاقوامی طلبہ اہم مالی ذریعہ بھی ہیں، کیونکہ غیرملکی طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس عموماً مقامی طلبہ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ طلبہ کی تعداد میں کمی کے باعث متعدد جامعات اپنی آمدنی برقرار رکھنے کے لیے فیس میں رعایت اور مختلف مالی مراعات کا سہارا لے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ کو بین الاقوامی طلبہ کے حصول کے لیے آسٹریلیا، یورپ اور دیگر تعلیمی مراکز سے بڑھتے ہوئے مسابقت کا سامنا ہے۔ جامعات کی جانب سے فیس میں رعایتیں اسی مسابقت کا حصہ ہیں، تاہم مسلسل فیس میں کمی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے مالی استحکام کے لیے ایک نیا چیلنج بھی بن سکتی ہے۔

پاکستانی طلبہ کے لیے برطانوی جامعات کی جانب سے خودکار فیس رعایتوں کا بڑھتا ہوا رجحان خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ماسٹرز اور دیگر پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ بعض جامعات میں ہزاروں پاؤنڈ تک کی بچت کرسکتے ہیں، تاہم رعایت کی رقم، اہلیت، متعلقہ پروگرام اور داخلے کی شرائط ہر یونیورسٹی میں مختلف ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں