نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ سیاسی جماعت، نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اب یہاں بھی صادق خان اور ممدانی آئیں گے ،محسن نقوی

نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ سیاسی جماعت، نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اب یہاں بھی صادق خان اور ممدانی آئیں گے ،محسن نقوی
لاہور، 5 ستمبر: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، انہیں نہ کوئی فرد واحد، نہ سیاسی جماعت اور نہ ہی کوئی نمائندہ روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے وہ اس عہدے پر رہیں یا نہ رہیں۔
قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے انتظامی نظام میں تبدیلی وقت کی ضرورت بن چکی ہے اور نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننا ناگزیر ہے۔ ان کے بقول اس معاملے کو کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کی خواہش کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ’’جو مرضی کرلیں، میں اس چیز سے اب پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ میں اس نوکری پر رہوں نہ رہوں، نئے انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔‘‘
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مقصد کسی صوبے یا قومیت کی شناخت ختم کرنا نہیں۔ کسی سے پنجابی، سندھی، پٹھان یا بلوچ کی شناخت نہیں چھینی جا رہی۔ ان کے مطابق انتظامی حدود میں تبدیلی کا مقصد حکمرانی کو بہتر بنانا، اختیارات کو عوام کے قریب لانا اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وہ صوبہ اسلام آباد کے حامی ہیں اور وفاقی دارالحکومت کو بھی ایسا انتظامی و مالیاتی ڈھانچہ ملنا چاہیے جس کے ذریعے یہاں کے عوام کو بہتر سہولیات اور اپنے حقوق حاصل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوامی رائے، سیاسی مشاورت اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے، تاہم اس بحث کو محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر روکا نہیں جا سکتا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور موجودہ انتظامی ڈھانچے پر دباؤ بڑھ چکا ہے، اس لیے وقت کے تقاضوں کے مطابق انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل سے لوگوں کی شناخت یا ثقافت متاثر نہیں ہوگی بلکہ اس کا مقصد ریاستی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ پنجابی اپنی شناخت کے ساتھ پنجابی، سندھی سندھی، پٹھان پٹھان اور بلوچ بلوچ رہے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ملک کو مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے فیصلہ سازی اور حکومتی سہولیات عوام کے قریب لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدہ قومی بحث کرنا ہوگی، تاہم وہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ ’’ممدانی اور صادق خان تو اب آئیں گے، میں اس نوکری پر رہوں نہ رہوں، اس چیز سے اب پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘