نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی دوغلی پالیسی پر چل رہی ہے، سرائیکی صوبہ کی حامی، سندھ کی تقسیم پر سندھو دیش کی بات، خواجہ آصف

نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی دوغلی پالیسی پر چل رہی ہے، سرائیکی صوبہ کی حامی، سندھ کی تقسیم پر سندھو دیش کی بات، خواجہ آصف
اسلام آباد، 5 ستمبر: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی دوغلی پالیسی پر چل رہی ہے، ایک طرف سرائیکی صوبے کی حمایت کی جاتی ہے جبکہ سندھ کی تقسیم کی بات ہو تو سندھو دیش کا معاملہ سامنے آجاتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات کی جاتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے، لیکن جب سندھ کو مزید انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی بات ہو تو ’’سندھو دیش‘‘ کی بات شروع ہوجاتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی اس دوہری پالیسی کے پیچھے کچھ اور عوامل ہیں، تاہم وہ اس بارے میں مناسب وقت پر مزید بات کریں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سب سے پہلے پاکستانی ہونا ہماری شناخت ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم میں بھی اختیارات کی منتقلی کو آئینی اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا، لیکن اس پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں طاقت کا ارتکاز اسے فرسودہ بنا چکا ہے اور اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئی اکائیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانے چاہئیں۔
نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی جارہی ہے، جبکہ دیگر سیاسی حلقوں میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں یا یونٹس کے قیام کی تجاویز زیر بحث ہیں۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے تاہم واضح کیا گیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے فی الحال کوئی باقاعدہ منصوبہ زیر غور نہیں اور اس معاملے پر سیاسی اتفاق رائے ضروری ہوگا۔