مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سانحۂ پمز کی آڑ میں تاجروں کو اجتماعی سزا دینا ناقابلِ قبول ہے، اجمل بلوچ

سانحۂ پمز کی آڑ میں تاجروں کو اجتماعی سزا دینا ناقابلِ قبول ہے، اجمل بلوچ

سانحۂ پمز کی آڑ میں تاجروں کو اجتماعی سزا دینا ناقابلِ قبول ہے، اجمل بلوچ

اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے رہنماؤں نے پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے بجائے فائر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تاجروں کے کاروبار سیل کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔

آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ نے کہا کہ نومولود بچوں کی ہلاکت کا بدلہ کاروبار سیل کرکے لینا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحۂ پمز انتہائی افسوس ناک ہے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے، تاہم اس واقعے کی ذمہ داری تاجروں پر ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔

سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈیویلپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کی بیشتر تجارتی عمارتیں 40 سے 50 سال قبل تعمیر کی گئی تھیں، ان میں فوری طور پر موجودہ دور کا مکمل جدید فائر سیفٹی سسٹم نصب کرنا تکنیکی اور عملی طور پر ممکن نہیں۔

کراچی کمپنی کے صدر راجہ ذوالفقار اور ایف ٹین مرکز کے صدر احمد خان نے کہا کہ ایک ایک پلازے میں 50 سے زائد دکانوں اور دفاتر کے مالکان موجود ہیں، اس لیے یہ واضح کیا جائے کہ مشترکہ فائر سیفٹی نظام نصب کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی اور اس کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔

بلیو ایریا کے صدر یوسف راجپوت اور جی ایٹ مرکز کے صدر عجب خان نے کہا کہ تاجر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دکانوں اور دفاتر میں فائر ایکسٹنگوشر، اسموک ڈیٹیکٹر، فائر الارم، ہنگامی راستوں کی نشاندہی اور دیگر قابلِ عمل حفاظتی انتظامات کیے جاسکتے ہیں، پھر کاروبار سیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

تاجر رہنماؤں نے کہا کہ کاروباری مراکز کو بغیر پیشگی نوٹس، مشاورت اور مناسب مہلت کے سیل کرنے سے ہزاروں تاجروں اور ملازمین کا روزگار متاثر ہوگا، جبکہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں بھی نقصان پہنچے گا اور سرمایہ کاروں میں عدم تحفظ پیدا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سانحۂ پمز کے بعد شہر بھر میں افراتفری پیدا کرکے اصل واقعے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔ پمز ہسپتال کے حفاظتی و انتظامی نظام، فائر سیفٹی انتظامات اور 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کرکے تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔

تاجر رہنماؤں نے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور چیئرمین سی ڈی اے سے مطالبہ کیا کہ بغیر پیشگی نوٹس کاروباری مراکز سیل کرنے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تاجروں، سی ڈی اے اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے۔ کمیٹی پرانی تجارتی عمارتوں کے لیے قابلِ عمل متبادل فائر سیفٹی نظام تجویز کرے اور تاجروں کو ضروری انتظامات مکمل کرنے کے لیے مناسب مہلت فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری قانون کی پابندی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہے، تاہم سانحۂ پمز کی آڑ میں تاجروں کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں