مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

آٹو پالیسی پر نظرثانی، مقامی صنعت اور آٹو پارٹس میں خود انحصاری ضروری ہے، افتخار علی ملک

آٹو پالیسی پر نظرثانی، مقامی صنعت اور آٹو پارٹس میں خود انحصاری ضروری ہے، افتخار علی ملک

آٹو پالیسی پر نظرثانی، مقامی صنعت اور آٹو پارٹس میں خود انحصاری ضروری ہے، افتخار علی ملک

لاہور، 6 ستمبر: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو آٹو پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے مقامی صنعت کے فروغ اور آٹو پارٹس کی تیاری میں خود انحصاری پر توجہ دینا ہوگی۔ اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چینی الیکٹرک وہیکل (EV) مینوفیکچررز کے لیے برآمدی سرمایہ کاری کا مرکز بننے کی کوشش کرنی چاہیے، جس کے لیے قابلِ پیش گوئی پالیسیاں، مسابقتی توانائی، بہتر لاجسٹکس، درآمدی خام مال تک آسان رسائی اور مؤثر تجارتی معاہدے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی پالیسی پرانی ٹیکنالوجیز کے بجائے ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت جدید ٹیکنالوجی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ ہائبرڈ گاڑیاں ایندھن کے استعمال اور اخراج میں کمی کے لیے عملی عبوری حل فراہم کرتی ہیں جبکہ چارجنگ انفراسٹرکچر پر انحصار بھی کم رہتا ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پالیسی کا مقصد مقامی ویلیو ایڈیشن، برآمدات، ماحولیاتی بہتری اور تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کا آئی ٹی شعبہ بھی کنیکٹڈ وہیکلز کے فروغ میں کردار ادا کرے جبکہ ملکی معدنی وسائل کو بیٹری اور موبیلٹی سپلائی چین میں مقامی سطح پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان، جنوبی کوریا، چین اور تھائی لینڈ نے آٹو صنعت کو عارضی اور مشروط تحفظ فراہم کیا، جسے برآمدات، پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی منتقلی اور صنعتی ترقی سے منسلک رکھا گیا۔ پاکستان کو ان تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیرف میں مرحلہ وار اور شفاف کمی کی جائے جبکہ توانائی، لاجسٹکس اور ٹیکس اصلاحات کے ذریعے مجموعی پیداواری لاگت کم کی جائے اور باقی مراعات کو برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن اور ہائبرڈ و الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی سے مشروط کیا جائے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں