گندم پالیسی پر نظرثانی اعر کسانوں کو لاگت کے مطابق مناسب قیمت دی جائے، شاہد عمران

گندم پالیسی پر نظرثانی اعر کسانوں کو لاگت کے مطابق مناسب قیمت دی جائے، شاہد عمران
لاہور، 6 ستمبر: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ گندم پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے کسانوں کے مفادات کا تحفظ اور صارفین کے لیے مناسب قیمت یقینی بنائی جائے۔ اتوار کو یہاں ’’ری تھنکنگ آور ویٹ پالیسی‘‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ڈیزل، بجلی، کھاد اور زرعی ادویات کی لاگت کے باعث کسان مالی مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے انہیں فصل کے وقت کم از کم درآمدی قیمت کے مساوی معاوضہ ملنا چاہیے۔ شاہد عمران نے حکومت کو تجویز دی کہ کم از کم 40 لاکھ ٹن کے اسٹریٹجک گندم ذخائر قائم کیے جائیں اور انہیں مقررہ سرکاری نرخوں کے بجائے مارکیٹ قیمتوں پر خریدا اور ضرورت کے وقت جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں کم آمدنی والے طبقے کو ہدفی سبسڈی دی جائے تاکہ کسانوں پر قیمتوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے نجی شعبے کے اسٹاکسٹس کے کردار کو تسلیم کرنے اور فصل کی کٹائی کے دوران اضافی گندم ذخیرہ کرنے کے لیے وسیع نیٹ ورک تشکیل دینے پر بھی زور دیا تاکہ مارکیٹ میں اجارہ داری پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ملک کی تقریباً 77 فیصد گندم پیدا کرتا ہے، تاہم 2024 میں سرکاری خریداری روکنے، 2025 میں الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید نظام اور 2026 میں 11 کمپنیوں کے ذریعے نجی شعبے کی قیادت میں خریداری سمیت مختلف پالیسیوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بالآخر کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا اس لیے اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔