مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزیاں، سی ڈی اے کا بحریہ ٹاؤن، جناح گارڈن، سواں گارڈن اور آغوش ہاؤسنگ کے دفاتر سیل کرنے کا حکم

لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزیاں، سی ڈی اے کا بحریہ ٹاؤن، جناح گارڈن، سواں گارڈن اور آغوش ہاؤسنگ کے دفاتر سیل کرنے کا حکم

لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزیاں، سی ڈی اے کا بحریہ ٹاؤن، جناح گارڈن، سواں گارڈن اور آغوش ہاؤسنگ کے دفاتر سیل کرنے کا حکم

اسلام آباد: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور ترقیاتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بحریہ ٹاؤن، جناح گارڈن، سواں گارڈن اور اکاؤنٹس گروپ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (AGOCHS) کے دفاتر سیل کرنے کی کارروائی کا حکم دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ نے مذکورہ چار ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی کے لیے انفورسمنٹ ونگ کو باضابطہ ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کے مطابق متعلقہ سوسائٹیوں کو ماضی میں بھی منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور دیگر ریگولیٹری شرائط پر عملدرآمد کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے، تاہم مطلوبہ تعمیل نہ ہونے کے بعد شوکاز اور حتمی نوٹسز کے مرحلے سے گزرنے کے بعد دفاتر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق بحریہ ٹاؤن فیز III-E اور IV کا لے آؤٹ پلان 8 دسمبر 2010 کو منظور کیا گیا تھا۔ زون 5 میں واقع اس اسکیم کا رقبہ 2,099 کنال ہے، تاہم سی ڈی اے کے موجودہ ریکارڈ میں اس کا این او سی جاری نہ ہونے کی حیثیت درج ہے۔ اس اسکیم کے حوالے سے دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران متعدد شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے کے نوٹس میں بحریہ ٹاؤن فیز III-E اور IV کی جانب سے لے آؤٹ پلان کی منظوری کی شرائط پوری نہ کرنے اور این او سی کے حصول کے لیے ضروری تقاضے مکمل نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض دیگر مراحل میں پارکس، قبرستان اور عوامی عمارات کے لیے مختص اراضی کو مبینہ طور پر دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔

سواں گارڈن کے حوالے سے سی ڈی اے نے مبینہ طور پر پارکس، قبرستان اور عوامی عمارات کے لیے مختص جگہوں میں تبدیلی اور تقریباً 585 کنال رقبے پر منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور این او سی کے بغیر ترقیاتی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے۔

جناح گارڈن کے بارے میں سی ڈی اے کے مطابق اسکیم کا دوسرا لے آؤٹ پلان 2011 میں 2,548 کنال رقبے پر منظور کیا گیا تھا، تاہم سوسائٹی این او سی حاصل نہیں کرسکی۔ اتھارٹی نے پارکس، گرین ایریاز، اسکول، اسپتال، کمیونٹی سینٹر اور قبرستان سمیت عوامی سہولیات کے لیے مختص اراضی کے مبینہ طور پر تبدیل کیے جانے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ جناح گارڈن ایکسٹینشن کے 1,826 کنال منصوبے کے حوالے سے بھی این او سی نہ ہونے اور عوامی سہولیات کے لیے مختص جگہوں کے مبینہ استعمال پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

اکاؤنٹس گروپ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز-I کے بارے میں سی ڈی اے کے ریکارڈ میں منظور شدہ لے آؤٹ پلان منسوخ اور این او سی جاری نہ ہونے کی حیثیت درج ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اس اسکیم میں بھی پارکس، قبرستان اور عوامی عمارات کے لیے مختص جگہوں کو مبینہ طور پر تبدیل کیے جانے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔

ایک سینئر سی ڈی اے افسر کے مطابق متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو پہلے ہی شوکاز اور حتمی نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ انفورسمنٹ ونگ کو دفاتر سیل کرنے کی کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد میں 66 منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کے علاوہ 199 غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں بھی موجود ہیں۔ ان میں 53 ایسی اسکیمیں بھی شامل ہیں جو اسلام آباد کی حدود سے باہر واقع ہونے کے باوجود سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کا نام استعمال کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ خلاف ورزیاں اور اعتراضات سی ڈی اے کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کا حصہ ہیں اور انہیں کسی عدالتی فیصلے یا حتمی عدالتی طور پر ثابت شدہ الزامات کے طور پر بیان نہیں کیا جا رہا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں