شکریہ جماعت اسلامی! پٹرول مہنگا کرانے میں آپ نے بڑا تعاون فرمایا

شکریہ جماعت اسلامی! پٹرول مہنگا کرانے میں آپ نے بڑا تعاون فرمایا
حنیف صابر
پاکستان کی سیاست بھی کمال کی چیز ہے۔ یہاں حکومت کے خلاف احتجاج ہو تو عوام کو امید دلائی جاتی ہے کہ اب مہنگائی کا خاتمہ ہوگا، مذاکرات ہوں تو بتایا جاتا ہے کہ عوام کے لیے ریلیف کی راہ نکل آئی ہے اور مطالبات پیش ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس اب غریب کی زندگی بدلنے ہی والی ہے۔ لیکن جب اگلی صبح پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو عوام حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر وہ ریلیف گیا کہاں جس کا اتنے دنوں سے چرچا تھا۔
جماعت اسلامی نے 7 اگست کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا۔ اس وقت پٹرول 329 روپے 82 پیسے فی لیٹر تھا۔ جماعت اسلامی سڑکوں پر نکلی، حکومت کے خلاف نعرے لگے اور عوام کو یقین دلایا گیا کہ ان کے حقوق کی جنگ لڑی جا رہی ہے، لیکن شاید پٹرول کو اس احتجاج کی خبر نہیں تھی۔ وہ اپنی رفتار سے چلتا رہا اور قیمت بھی بڑھتی رہی۔ ایک ماہ بعد 8 ستمبر کو پٹرول 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچا، یعنی 7 اگست کے مقابلے میں 28 روپے 95 پیسے کا اضافہ۔
اب ذرا اس سیاسی ڈرامے کا اگلا منظر دیکھیے۔ 7 ستمبر کو جماعت اسلامی کے وفد نے لیاقت بلوچ کی قیادت میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں حکومتی ٹیم سے باقاعدہ مذاکرات کیے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی سمیت عوام کو ریلیف دینے کے لیے چھ تجاویز بھی پیش کیں۔ عوام نے شاید سوچا ہوگا کہ احتجاج رنگ لے آیا، حکومت مذاکرات کی میز پر آگئی، مطالبات سامنے آگئے، تجاویز بھی پیش ہوگئیں، اب شاید پٹرول سستا ہونے کی خبر آئے گی۔ مگر پاکستانی عوام کو شاید امید رکھنے کی بھی سزا ملتی ہے۔ مذاکرات ختم ہوئے اور اگلی صبح حکومت نے عوام کو وہ خبر دی جس کی کسی نے امید نہیں کی تھی۔ پٹرول میں ایک ہی وار میں 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ کردیا گیا اور قیمت 345 روپے 87 پیسے سے بڑھ کر 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 3 روپے 72 پیسے مہنگا کردیا گیا۔
واہ! کیا شاندار مذاکرات تھے۔ ایک طرف عوام کو ریلیف دینے کی تجاویز، دوسری طرف اگلے ہی دن پٹرول پر 12 روپے 90 پیسے کا وار۔ یوں محسوس ہوا جیسے مذاکرات کی میز پر ریلیف تلاش کیا جا رہا تھا اور پٹرول پمپ پر عوام کی جیب تلاش کی جا رہی تھی۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کم کرنے کی بات کی، حکومت نے حساب کتاب کیا، دونوں طرف سے دلائل آئے، تجاویز پیش ہوئیں، مذاکرات ہوئے اور اگلے ہی دن پٹرول نے پورے معاملے کا خلاصہ صرف ایک عدد میں کردیا: 12 روپے 90 پیسے اضافہ۔ پاکستانی عوام کے لیے اس سے مختصر مذاکراتی اعلامیہ شاید ہی کبھی جاری ہوا ہو۔
یہاں ایک بات اور دلچسپ ہے۔ 7 اگست کو جماعت اسلامی نے احتجاجی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج کیا۔ 8 اگست کو وفاقی وزیر احسن اقبال نے لیاقت بلوچ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، پھر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان رابطوں کا سلسلہ آگے بڑھا اور بالآخر 7 ستمبر کو باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ یعنی تقریباً پورا ایک ماہ احتجاج، رابطوں، مذاکرات اور تجاویز میں گزر گیا، لیکن اگلے ہی روز پٹرول نے عوام کو بتا دیا کہ اصل فیصلہ کہاں ہوتا ہے۔ سڑک پر احتجاج اپنی جگہ، مذاکرات کی میز اپنی جگہ اور قیمت مقرر کرنے والی فائل اپنی جگہ۔
جماعت اسلامی سے سوال ضرور بنتا ہے کہ اگر مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرانا، پٹرولیم لیوی ختم یا کم کرانا اور عوام کو ریلیف دلانا تھا تو مذاکرات کے اگلے ہی روز پٹرول میں اتنا بڑا اضافہ عوام کو کیا پیغام دیتا ہے؟ کیا حکومت نے مذاکرات کی میز پر کچھ اور کہا اور پٹرول پمپ پر کچھ اور؟ کیا چھ تجاویز کا نتیجہ یہی تھا کہ اگلے دن پٹرول مزید مہنگا کردیا جائے؟ اگر ایسا ہے تو پھر عوام کو یہ سمجھنے کا حق ہے کہ مذاکرات کا حاصل کیا نکلا، احتجاج کا فائدہ کیا ہوا اور ریلیف آخر کس کو ملا؟
دوسری طرف حکومت کا کمال بھی دیکھیے۔ پٹرول مہنگا کرنے کے لیے حکومت کے پاس ہمیشہ ایک دلیل موجود ہوتی ہے؛ کبھی عالمی منڈی، کبھی عالمی قیمتیں، کبھی شرح مبادلہ، کبھی پٹرولیم لیوی، کبھی ٹیکس اور کبھی عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط۔ دلیلیں اتنی کہ ایک الگ وزارت قائم کی جاسکتی ہے، مگر عوام کا سوال آج بھی وہی ہے کہ جناب! ہماری آمدن کہاں سے بڑھی ہے؟ پٹرول مہنگا کرنے کا حساب حکومت کے پاس ہے، لیکن پٹرول خریدنے کے لیے اضافی پیسے عوام کہاں سے لائیں گے، اس کا حساب شاید کسی وزارت کے پاس نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پٹرول صرف گاڑی کے ٹینک میں نہیں جاتا، اس کی قیمت پورے بازار میں گھومتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کا خرچ بڑھتا ہے، مال برداری مہنگی ہوتی ہے، فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، سبزی اور پھل منڈی تک مہنگے پہنچتے ہیں، دکاندار قیمت بڑھاتا ہے اور آخر میں سارا بوجھ عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ چنانچہ 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ صرف 12 روپے 90 پیسے نہیں، یہ مہنگائی کے ایک نئے دور کا دروازہ کھولنے والا اضافہ ہے۔
اور جماعت اسلامی کے لیے بھی اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں جب سڑکوں پر نکلتی ہیں تو کہتی ہیں کہ وہ عوام کی آواز ہیں، لیکن عوام صرف یہ نہیں دیکھتے کہ کون احتجاج میں کتنی بڑی تقریر کرتا ہے، وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ احتجاج کے بعد حاصل کیا ہوا۔ اگر ایک ماہ بعد پٹرول تقریباً 29 روپے مہنگا ہوجائے اور حکومت سے مذاکرات کے اگلے ہی دن پٹرول کی قیمت میں تقریباً 13 روپے کا جھٹکا آجائے تو عوام لازماً پوچھیں گے کہ اس ساری جدوجہد کا مقصد کیا تھا؟ عوام کو اس سے ملا کیا؟
ایک بات اپنی جگہ واضح ہے کہ پٹرول کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار جماعت اسلامی کے پاس نہیں۔ لیکن صورتحال سب کے سامنے ہے: 7 اگست کو پٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج، اس وقت پٹرول 329 روپے 82 پیسے فی لیٹر؛ 7 ستمبر کو ریلیف کے لیے مذاکرات اور 8 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ۔ عوام اگر اس ترتیب پر طنز کریں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟
حکومت کہے گی عالمی قیمتیں ذمہ دار ہیں، وزارت خزانہ اپنے حساب کتاب پیش کرے گی، متعلقہ ادارے اپنا فارمولا بتائیں گے، جماعت اسلامی اپنے احتجاج اور مذاکرات کا حوالہ دے گی، لیکن پٹرول پمپ پر کھڑا عام آدمی ان سب سے ایک ہی سوال کرے گا کہ پٹرول سستا کب ہوگا؟ اسے عالمی منڈی کی پوری تاریخ نہیں چاہیے، اسے پٹرولیم لیوی کا پیچیدہ حساب نہیں چاہیے، اسے مذاکرات کی تصاویر نہیں چاہئیں۔ اسے صرف یہ چاہیے کہ مہینے کی آمدن میں گھر کا خرچ بھی چلے، بچوں کی ضروریات بھی پوری ہوں، بجلی اور گیس کے بل بھی ادا ہوں اور گاڑی یا موٹر سائیکل میں پٹرول بھی ڈلوایا جاسکے۔
مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہی ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے وعدے بہت جلدی آتے ہیں اور ریلیف خود ہمیشہ راستے میں کہیں گم ہوجاتا ہے۔ احتجاج ہوتا ہے، مذاکرات ہوتے ہیں، تجاویز آتی ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں، مگر آخر میں ایک چیز پوری باقاعدگی سے اپنی منزل تک پہنچتی ہے اور وہ ہے مہنگائی کا نیا بل۔
احتجاج بھی ہوگیا، مذاکرات بھی ہوگئے، ریلیف کی تجاویز بھی آگئیں، لیکن عوام کو اگلے ہی دن پٹرول کا نیا ریٹ تھما دیا گیا۔ 7 اگست کو پٹرول 329 روپے 82 پیسے تھا، 8 ستمبر کو 358 روپے 77 پیسے ہوگیا۔ تقریباً ایک ماہ میں 28 روپے 95 پیسے کا اضافہ، اور پھر مذاکرات کے اگلے ہی دن 12 روپے 90 پیسے کا ایک ہی جھٹکا۔
اب عوام یہی کہہ سکتے ہیں کہ احتجاج مبارک، مذاکرات مبارک، تجاویز مبارک اور ریلیف کے نام پر پٹرول مہنگا ہونے پر بہت بہت مبارک!
پاکستان میں شاید یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ احتجاج سڑک پر ہوتا ہے، مذاکرات میز پر ہوتے ہیں، فیصلے فائلوں میں ہوتے ہیں، مگر بل ہمیشہ عوام ادا کرتے ہیں۔ حکومت حساب لگاتی ہے، سیاسی جماعتیں سیاست کرتی ہیں، ادارے اعدادوشمار جاری کرتے ہیں اور عام آدمی پٹرول پمپ پر اپنی جیب ٹٹولتا رہ جاتا ہے۔
آخر میں سوال صرف اتنا ہے: اگر ہر احتجاج اور ہر مذاکرات کے بعد عوام نے ہی زیادہ قیمت ادا کرنی ہے تو پھر احتجاج کس کے لیے اور ریلیف کس کا؟