مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وزیر اعظم نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی، ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز

وزیر اعظم نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی، ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز

وزیر اعظم نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی، ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز

*اسلام آباد، 9 ستمبر:* وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد ملک میں آٹو موبائل صنعت کو فروغ دینا، مقامی پیداوار اور لوکلائزیشن بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات میں اضافہ اور جدید و ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت نئی آٹو پالیسی کے حوالے سے اجلاس میں پالیسی کے مختلف خدوخال اور تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ نئی پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کے استعمال اور مقامی سطح پر ان کی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے درآمدی ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

پالیسی مسودے کے مطابق 800 سی سی تک اور 851 سے 1000 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ 50 فیصد ڈیوٹی کو مرحلہ وار کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔ اسی طرح 1501 سے 1800 سی سی اور 1800 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد تک کرنے کی تجویز شامل ہے۔

کمرشل ٹرانسپورٹ میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہائبرڈ ٹرکوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد، ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں پر 60 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد جبکہ ہائبرڈ بسوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئی آٹو پالیسی میں بڑی انجن کپیسٹی کی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ 2001 سے 3000 سی سی تک گاڑیوں پر 10 فیصد جبکہ 3001 سی سی اور اس سے زائد گاڑیوں پر 19.5 فیصد ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

حکومت کے تخمینے کے مطابق مجوزہ ماحولیاتی لیوی سے پانچ سال کے دوران تقریباً 142.79 ارب روپے حاصل ہوں گے، جنہیں آٹو سیکٹر میں برآمدات کے فروغ اور تحقیق و ترقی کے لیے استعمال کرنے کی تجویز ہے۔

پالیسی میں مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے آٹو پارٹس کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملکی ویلیو ایڈیشن بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ آٹو مینوفیکچررز کے لیے گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات کے اہداف مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

حکومت کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا مقصد پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کو عالمی معیار کے مطابق مسابقتی بنانا، نئی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی لانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کو عالمی آٹو سپلائی چین کا حصہ بنانا ہے۔

پالیسی میں الیکٹرک اور دیگر نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کو بھی اہمیت دی گئی ہے تاکہ ایندھن کی درآمدات پر انحصار کم اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا، جبکہ حتمی منظوری کے لیے اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس لیے پالیسی میں شامل ڈیوٹی اور لیوی سے متعلق تجاویز کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت ہائبرڈ گاڑیوں پر مجوزہ ڈیوٹی میں کمی سے صارفین کو ریلیف ملنے اور ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ بڑی انجن کپیسٹی والی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی کا مقصد زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی اور ماحول کے تحفظ کے لیے وسائل پیدا کرنا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں