پٹرول اور ڈیزل پھر مہنگے، پٹرول 375 اور ڈیزل 403 روپے سے تجاوز کرگیا

پٹرول اور ڈیزل پھر مہنگے، پٹرول 375 اور ڈیزل 403 روپے سے تجاوز کرگیا
*اسلام آباد:* حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا، جس کے بعد ملک میں پٹرول کی قیمت *375 روپے 82 پیسے* جبکہ ڈیزل کی قیمت *403 روپے 32 پیسے فی لیٹر* تک پہنچ گئی ہے۔
پٹرول کی قیمت میں *5 روپے 2 پیسے* فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں *5 روپے 28 پیسے* فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں *12 سے 14 ستمبر 2026* تک نافذ العمل رہیں گی۔
حالیہ اضافہ مسلسل *پانچویں مرتبہ* کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ پانچ روز کے دوران پٹرول کی قیمت مجموعی طور پر *29 روپے 95 پیسے* جبکہ ڈیزل کی قیمت *25 روپے 27 پیسے فی لیٹر* بڑھ چکی ہے۔
تازہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 370 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 375 روپے 82 پیسے ہوگئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 398 روپے 4 پیسے سے بڑھ کر 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ یوں ڈیزل کی قیمت پہلی مرتبہ حالیہ اضافوں کے دوران *400 روپے فی لیٹر کی نفسیاتی حد عبور کرگئی ہے۔* عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اضافے کی بڑی وجہ
حالیہ پٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جمعہ کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ضرور ہوئی، تاہم خام تیل اب بھی ہفتہ وار بنیاد پر *8 فیصد سے زیادہ اضافے* کی جانب گامزن تھا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 104.61 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 100.05 ڈالر فی بیرل پر رہی۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں، جس کا براہ راست اثر خام تیل، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ روزانہ قیمتوں کے نظام سے صارفین پر فوری اثر
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلی کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اثر مقامی صارفین تک نسبتاً تیزی سے پہنچ رہا ہے۔
نئے نظام کے تحت عالمی مارکیٹ کی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ وقفے کے بجائے بار بار نظرثانی کی جا رہی ہے۔
مسلسل پانچ اضافوں نے صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کے لیے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر نجی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑتا ہے، جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری، زراعت، صنعت اور اشیائے خورونوش کی ترسیل کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
حالیہ اضافوں نے یہ سوال بھی دوبارہ اٹھا دیا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو پاکستان میں مقامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کس سطح تک پہنچ سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی توانائی مارکیٹ پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔