مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

عبدالعلیم خان کا موٹروے ایم 5 کا دورہ، سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

عبدالعلیم خان کا موٹروے ایم 5 کا دورہ، سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

ملتان (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹروے ایم 5 کے جلال پور پیر والا سیکشن کا تفصیلی دورہ کیا اور موٹروے پر جاری مختلف ترقیاتی کاموں کی پیشرفت کا ذاتی طور پر جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر وفاقی وزیر کے ہمراہ سیکریٹری مواصلات اور چئیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) بھی موجود تھے۔

ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے کا حکم

ترقیاتی کاموں کی جگہوں کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کام کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے سخت ہدایات جاری کیں۔ وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “موٹروے پر جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو بغیر کسی تاخیر کے جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔” حکومتِ پاکستان حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفافیت کیلئے پرعزم ہونے کے ساتھ ساتھ بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھی کوشاں ہے، جس کے تحت یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ریسٹ ایریاز میں عالمی معیار کی سہولیات کا مطالبہ

اپنے دورے کے حصے کے طور پر، وفاقی وزیر نے ایم 5 کے سروس اور ریسٹ ایریاز کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے نئے تعمیر شدہ ریسٹ رومز، کچنز اور صفائی ستھرائی کے مجموعی معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ مسافروں کے لیے سہولیات کو بہتر بنانے کے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ موٹروے پر سفر کرنے والے مسافر بہترین معیار کی خدمات کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ریسٹ ایریاز میں مسافروں کو اعلیٰ ترین اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔”

اشیاء خوردونوش کے معیار پر سمجھوتہ نہیں ہوگا

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سروس ایریا میں زیرِ تعمیر مسجد کا بھی نوٹس لیا اور ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کو تیز کر کے اسے ہنگامی بنیادوں پر جلد مکمل کیا جائے۔ مزید برآں، وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ عوام کی صحت اور اطمینان کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ “سروس ایریاز پر دستیاب اشیاء خوردونوش کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،” انہوں نے مزید کہا کہ موٹروے سروسز اور کھانے پینے کی اشیاء کے اعلیٰ معیار کو مستقل طور پر برقرار رکھنے کے لیے ایف بی آر کی چھوٹے تاجروں کیلئے نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کی طرز پر نگرانی (مانیٹرنگ) کا موثر نظام قائم کیا جائے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان نے 17 ارب ڈالر کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا ہے، جو ملکی معاشی استحکام کی نوید ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں