مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

برطانیہ میں نئے گھروں پر سولر پینلز، بلڈرز کے تحفظات سامنے آ گئے

برطانیہ میں نئے گھروں پر سولر پینلز، بلڈرز کے تحفظات سامنے آ گئے

لندن (نمائندہ خصوصی)۔ برطانیہ میں حکومت کی جانب سے نئے تعمیر ہونے والے گھروں پر سولر پینلز کی تنصیب لازمی قرار دینے کی مجوزہ پالیسی پر تعمیراتی شعبے نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بلڈرز کا کہنا ہے کہ بعض گھروں کی چھتیں ایسی سمت میں ہوتی ہیں جہاں سورج کی روشنی بہت کم یا تقریباً نہ ہونے کے برابر پہنچتی ہے، اس کے باوجود ان پر سولر پینلز لگانے کی شرط غیر عملی اور مہنگی ثابت ہوگی۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرِ توانائی ایڈ ملی بینڈ توانائی کی بچت اور کاربن اخراج میں کمی کے منصوبے کے تحت انگلینڈ میں تعمیر ہونے والے بیشتر نئے گھروں پر سولر پینلز نصب کرنا لازمی بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے گھریلو بجلی کے اخراجات کم ہوں گے اور ملک کے نیٹ زیرو اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ہدایت کی طرح، برطانوی حکومت بھی ملکی پالیسیوں کو عالمی معیارات کے مطابق ڈھالنے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم ہاؤسنگ انڈسٹری سے وابستہ اداروں اور بلڈرز کا کہنا ہے کہ ہر گھر کی ساخت، سمت اور محلِ وقوع ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کئی مکانات ایسے ہوتے ہیں جن کی چھتیں شمال کی جانب ہوتی ہیں یا اردگرد بلند عمارتوں اور درختوں کی وجہ سے دھوپ محدود رہتی ہے، جس کے باعث سولر پینلز مطلوبہ بجلی پیدا نہیں کر پاتے۔ بلڈرز کے مطابق ایسی صورت میں پینلز کی لازمی تنصیب سے تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوگا جبکہ خریداروں کو بھی اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ملے گا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ہر منصوبے کے لیے تکنیکی جائزے اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لچکدار پالیسی اختیار کرے، نہ کہ تمام گھروں پر یکساں اصول نافذ کیے جائیں۔ حکومت کا میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفافیت کیلئے اہم عزم کی طرز پر تعمیراتی شعبے کے مسائل کا حل بھی باہمی مشاورت سے ممکن ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی عمارتوں کو زیادہ توانائی مؤثر بنانا مستقبل کی ضرورت ہے اور سولر پینلز، ہیٹ پمپ سمیت جدید توانائی بچانے والی ٹیکنالوجیز کے فروغ سے نہ صرف ماحول کا تحفظ ہوگا بلکہ طویل مدت میں صارفین کے بجلی کے بل بھی کم ہوں گے۔ پاکستان کی چین کو گوشت برآمدات بڑھانے کیلئے سرمایہ کاری کی دعوت کے برعکس، یہ معاملہ مکمل طور پر گھریلو تعمیراتی پالیسی اور توانائی کے پائیدار ذرائع کے گرد گھومتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں