سی ڈی اے کا ایکشن اور ہاؤسنگ سکیموں کا مستقبل: کیا صرف کارروائیاں کافی ہیں یا احتساب کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے؟

اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن نے وفاقی دارالحکومت کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاتر سیل کیے جا رہے ہیں، عوام کو سرمایہ کاری سے خبردار کیا جا رہا ہے، اشتہارات پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور متعدد منصوبوں کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ بظاہر یہ اقدامات قانون کی عملداری اور شہریوں کو فراڈ سے بچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ کئی ایسے بنیادی سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں جن کا جواب دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا غیر قانونی سکیموں کے خلاف کارروائی کرنا۔
اسلام آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا مسئلہ آج پیدا نہیں ہوا۔ کئی دہائیوں سے ایسی درجنوں سکیمیں کھلے عام پلاٹ فروخت کرتی رہیں، بڑے بڑے تشہیری بورڈ لگاتی رہیں، میڈیا پر اشتہارات دیتی رہیں، دفاتر قائم کرتی رہیں اور ہزاروں شہریوں سے اربوں روپے وصول کرتی رہیں۔ اگر یہ تمام سکیمیں غیر قانونی تھیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے اس تمام عرصے میں کہاں تھے؟ کیا انہیں ان سرگرمیوں کا علم نہیں تھا، یا پھر نگرانی کا نظام اتنا کمزور تھا کہ غیر قانونی کاروبار برسوں تک جاری رہا؟
سی ڈی اے کی موجودہ کارروائیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ ہزاروں خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان سکیموں میں لگا دی۔ کسی نے گھر بنانے کے لیے پلاٹ خریدا، کسی نے بچوں کے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کی اور کسی نے قسطوں پر زمین حاصل کی۔ آج جب انہی سکیموں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے تو سب سے زیادہ پریشانی انہی لوگوں کو لاحق ہے جن کا کسی غیر قانونی عمل میں براہ راست کوئی کردار نہیں تھا۔
دوسری طرف ان کارروائیوں کا ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ سرمایہ کار اب پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں اور کسی بھی ہاؤسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری سے پہلے این او سی، قانونی حیثیت اور دیگر دستاویزات کی جانچ کو ضروری سمجھنے لگے ہیں۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ زیادہ منظم اور شفاف ہو سکتی ہے۔
تاہم اس سارے معاملے کا سب سے اہم پہلو احتساب ہے۔ اگر آج غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو ان سرکاری افسران اور متعلقہ حکام کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا جن کے ادوار میں یہ سکیمیں پروان چڑھتی رہیں؟ اگر کسی منصوبے کے پاس قانونی منظوری موجود نہیں تھی تو اسے برسوں تک فروخت، تشہیر اور تعمیرات کی اجازت کیسے ملتی رہی؟ کیا متعلقہ افسران نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں یا انہوں نے غفلت برتی؟ اگر غفلت برتی گئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کئی دہائیوں تک خاموشی اختیار کیے رکھنے والے اور مبینہ طور پر اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے افراد آج قانون کی گرفت سے باہر کیوں ہیں؟ عوامی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ بعض عناصر نے اپنے ادوار میں غیر قانونی سرگرمیوں پر آنکھیں بند رکھیں، نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا، مالی فوائد حاصل کیے اور بعد ازاں ریٹائرمنٹ یا تبادلوں کے بعد خود کو ہر قسم کی جوابدہی سے محفوظ کر لیا، جبکہ اس تمام صورتحال کا خمیازہ آج عام شہری بھگت رہے ہیں۔
اگر حکومت واقعی ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات چاہتی ہے تو احتساب کا دائرہ صرف نجی ہاؤسنگ کمپنیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان تمام سرکاری افسران، متعلقہ حکام اور ذمہ دار افراد کا بھی غیر جانبدارانہ احتساب ہونا چاہیے جن کی غفلت، ناقص نگرانی یا مبینہ ملی بھگت کے باعث یہ غیر قانونی کاروبار سالہا سال جاری رہا۔ صرف موجودہ کارروائیاں مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتیں، کیونکہ جب تک نظام کی کمزوریوں کو دور نہیں کیا جائے گا، کل نئی غیر قانونی سکیمیں دوبارہ وجود میں آ سکتی ہیں۔
معاشی نقطۂ نظر سے بھی اس بحران کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر قانون پر یکساں عمل درآمد، شفاف این او سی سسٹم، مؤثر نگرانی اور بلاامتیاز احتساب کو یقینی بنایا جاتا ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا، قانونی ہاؤسنگ سکیموں کو فروغ ملے گا اور اسلام آباد کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ زیادہ مستحکم ہو سکے گی۔ لیکن اگر کارروائیاں صرف وقتی کریک ڈاؤن تک محدود رہیں اور ماضی کی غفلت کے ذمہ داروں کا تعین نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ مختلف شکلوں میں دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔
اسلام آباد کے ہاؤسنگ سیکٹر کا مستقبل صرف بلڈوزر چلانے یا دفاتر سیل کرنے سے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قانون سب پر یکساں لاگو ہو، شہریوں کی جمع پونجی کا تحفظ یقینی بنایا جائے، متاثرہ خریداروں کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے اور سب سے بڑھ کر ان عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے برسوں تک اس نظام کو خاموشی سے چلنے دیا۔
نتیجتاً، سی ڈی اے کا موجودہ کریک ڈاؤن ایک مثبت آغاز ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب احتساب صرف ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان تک محدود نہ رہے بلکہ ان سرکاری اہلکاروں، ریگولیٹری اداروں اور ذمہ دار حکام تک بھی پہنچے جن کی غفلت یا مبینہ چشم پوشی نے اس بحران کو جنم دیا۔ شفافیت، جوابدہی، قانون کی یکساں عملداری اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہی اسلام آباد کے ہاؤسنگ سیکٹر کو ایک محفوظ، منظم اور قابلِ اعتماد مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔