مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے آج اسلام آباد میں کامسٹیک سیکرٹریٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ بین الاسلامی فورم برائے فروغِ تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدت سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دنیا میں تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدت کو فروغ دینے پر زور دیا اور انہیں انسانی حقوق، پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے بنیادی ستون قرار دیا۔ یہ تقریب اس وقت منعقد ہوئی جب پاکستان حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ کے تناظر میں عالمی سطح پر اپنی تعلیمی و سائنسی ساکھ کو مستحکم کر رہا ہے۔

فورم میں شرکاء اور مقاصد

فورم میں او آئی سی کے اداروں کے نمائندگان، سفارت کاروں، وائس چانسلرز، ممتاز سائنس دانوں، ماہرینِ تعلیم، اسکالرز اور او آئی سی کے رکن ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ شرکاء نے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، تکنیکی جدت اور مسلم دنیا میں علم کے تبادلے کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا۔

کامسٹیک کا کردار اور علمی ورثہ

وفاقی وزیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پاکستان کو 9ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی کامیاب میزبانی اور آئندہ دو برسوں کے لیے اس کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اسلام کے شاندار علمی ورثے اور “علمِ نافع” کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ علم کو انسانیت کی خدمت اور عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروئے کار آنا چاہیے۔ انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان تحقیقی تعاون، جدت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے کامسٹیک کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

تعلیم بنیادی انسانی حق ہے: سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے سائنسی تعاون، تحقیقی اشتراک، تعلیمی تبادلوں، استعداد کار میں اضافے کے پروگراموں اور نوجوان سائنس دانوں کی معاونت کے ذریعے کامسٹیک کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے فلسطین، یمن، بنگلہ دیش، افریقہ اور دیگر مشکل حالات سے دوچار ممالک کے طلبہ اور محققین کے لیے کامسٹیک کی تعلیمی معاونت کو اسلامی یکجہتی اور باہمی تعاون کی عملی مثال قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم محض ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم افراد، خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 33 ویں آسیان ریجنل فورم کیلئے فلپائن روانہ ہونے کے حالیہ دورے بھی اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر تعلیمی اور سفارتی روابط کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا آئین انسانی وقار، مساوات اور تعلیم کے فروغ کی ضمانت دیتا ہے۔

او آئی سی میں پاکستان کا کردار

او آئی سی کے اندر کثیرالجہتی تعاون کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں 9ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی کی ہے اور آئندہ دو برسوں کے لیے اس کی چیئرمین شپ سنبھالی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق، خواتین کے بااختیار بنانے، تعلیم، سائنسی تعاون اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر یاد دلایا گیا کہ کیسے ماضی میں حکومت نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید فیصلہ سازی نظام کا آغاز کیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا سکے۔ کینیا کے مانڈیرا کاؤنٹی کے گورنر عزت مآب محمد عدن خلیف، ملائیشیا کے سینیٹر اور مائی پروڈیجی فاؤنڈیشن ملائیشیا کے چیئرمین عزت مآب توان جزیری الکاف، پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود، اعزازی مشیر او آئی سی-کامسٹیک، ڈاکٹر سلمیٰ نور، بانی و سرپرست ڈریم ٹیم سی بی او، اور وائس ایڈمرل (ر) عابد حمید HI(M)، ریکٹر بحریہ یونیورسٹی نے بھی فورم سے خطاب کیا۔ مقررین نے تعلیمی شراکت داری، سائنسی تحقیق، جدت، ادارہ جاتی تعاون اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ فورم کا اختتام او آئی سی-کامسٹیک کے فوکل پرسن برائے آؤٹ ریچ، جناب مرتضیٰ نور کے اظہارِ تشکر سے ہوا، جس کے بعد مہمانِ خصوصی سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں