خیبر پختونخوا حکومت کا 69 ارب روپے کے دیر موٹروے کی منظوری

پشاور (نمائندہ خصوصی)۔ خیبر پختونخوا حکومت نے 69 ارب روپے مالیت کے دیر موٹروے منصوبے کی اصولی منظوری دے دی ہے، جسے صوبے میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور علاقائی رابطوں کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
منصوبے کی تفصیلات اور تکنیکی پہلو
مجوزہ موٹروے تقریباً 29 کلومیٹر طویل ہوگی اور چکدرہ کو رباط، ضلع لوئر دیر سے ملائے گی۔ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت تعمیر کیا جائے گا، جس سے سفر کا دورانیہ کم ہونے، ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی متوقع ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس موٹروے کی تعمیر سے خطے کی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی، جس طرح حالیہ دنوں میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
سیاحت اور علاقائی تجارت پر اثرات
حکام کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف دیر اور ملحقہ اضلاع کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا بلکہ سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔ موٹروے شمالی علاقوں تک رسائی کو مزید آسان بنائے گی اور خطے کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بنے گی۔ اس طرح کے ترقیاتی اقدامات سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کینیڈین ہائی کمشنر سے اہم دوطرفہ ملاقات میں بھی صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبے کی منظوری کے بعد اب تفصیلی ڈیزائن، مالیاتی انتظامات اور دیگر قانونی مراحل مکمل کیے جائیں گے، جس کے بعد تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے عزم کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ عوام کو جدید سفری سہولیات میسر آ سکیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کینیڈین ہائی کمشنر سے اہم تجارتی ملاقات کے ذریعے صوبائی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو اہمیت دی گئی تھی۔