نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بیلاروس کے وزیر خارجہ سے ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزینکوف سے ملاقات کی، جس دوران دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تعلقات کا جائزہ اور مستقبل کا لائحہ عمل
دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں فریقوں نے پاکستان اور بیلاروس کے مابین قائم دوطرفہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ سطح کے روابط کے تسلسل اور پاکستان و بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کے نویں اجلاس کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ یہ اجلاس 11 سے 12 اگست کو اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہوگا، جس کے لیے دونوں رہنماؤں نے اپنی توقعات کا اظہار کیا ہے۔
اقتصادی و تجارتی تعاون پر اتفاق
دونوں وزرائے خارجہ نے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ دفاع، زراعت، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے تبادلے کے شعبوں میں اشتراک عمل کو بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا۔ اس دوران جامع تعاون کے روڈ میپ (2025-2027) پر اپنے عزم کا بھرپور اعادہ کیا گیا۔ خیال رہے کہ ملک میں جاری حالیہ معاشی اصلاحات کے تناظر میں ایسی ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، بالکل اسی طرح جیسے حال ہی میں سعودی عرب میں جنرل ایجوکیشن قانون کی منظوری، تعلیمی اصلاحات کا آغاز جیسے اقدامات خطے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
علاقائی صورتحال اور پاکستان کا کردار
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزینکوف نے عالمی سطح پر جاری کشیدگی، بشمول امریکا۔ایران صورتحال کے دوران بات چیت کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے خطے میں قیام امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی تعریف کی۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے مذاکرات اور سعودی عرب کیلئے نئی شرط جیسی پیش رفت کے بعد خطے میں سفارتکاری کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے جس میں پاکستان فعال کردار ادا کر رہا ہے۔