سعودی عرب میں جنرل ایجوکیشن قانون کی منظوری، تعلیمی اصلاحات کا آغاز

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب نے ملک کے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ‘نئے جنرل ایجوکیشن قانون’ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر تعلیم کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانا، تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں شفافیت اور جوابدہی کے کلچر کو فروغ دینا اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کو تیزی سے آگے بڑھانا ہے۔
نئے تعلیمی قانون کے اہم خدوخال
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس نئے قانون میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور تمام متعلقہ تعلیمی اداروں کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کا انتہائی واضح تعین کیا گیا ہے۔ قانون سازی کے اس عمل کے ذریعے تعلیمی نظام میں بہتر نظم و نسق، مؤثر نگرانی اور اعلیٰ معیار کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک وضع کیا گیا ہے، جس کی بدولت تعلیمی شعبے کی شفافیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ جیسے کہ حال ہی میں پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار دیا گیا ہے، اسی طرح سعودی عرب بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے نصاب کو ہم آہنگ کر رہا ہے۔
شمولیتی تعلیم اور نجی شعبے کا کردار
نئے قانون میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ تمام طلبہ کے لیے معیاری تعلیم تک مساوی رسائی ممکن بنائی جائے۔ خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی معاونت، ایک محفوظ اور جامع تعلیمی ماحول کی فراہمی، اور تعلیمی نظام میں نجی شعبے کی بھرپور شمولیت اس قانون کے کلیدی ستون ہیں۔ اس کے علاوہ، نصاب کی تیاری کے عمل کو مزید مستحکم اور شفاف بنانے کے لیے تعلیمی اداروں کی نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جس طرح وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی عالمی توانائی کمپنیوں سے ملاقات معاشی استحکام کیلئے ضروری ہے، اسی طرح سعودی عرب کا یہ قدم تعلیمی میدان میں خود انحصاری کے حصول کیلئے ناگزیر ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
سعودی حکام کے مطابق یہ قانون مملکت کے تعلیمی شعبے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، انسانی وسائل کو مضبوط بنانے اور مستقبل کی معاشی و سماجی ضروریات کے مطابق باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنے کی جانب ایک تاریخی اور اہم پیش رفت ہے۔