مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

مینگرووز کی بحالی بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے

مینگرووز کی بحالی بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے عالمی یومِ مینگرووز کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے مینگرووز جنگلات بحیرہ عرب کے ساحل کے تحفظ، ماہی گیری کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور ان کے تحفظ و بحالی کے لیے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ وزارت بحری امور کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے زور دیا کہ ملک کے مینگرووز نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے ضامن ہیں بلکہ یہ بلیو اکانومی کے فروغ کا بھی ایک اہم ذریعہ ہیں، جن کی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ملکی ترقی کیلئے برآمدات پر مبنی معیشت ضروری ہے، اسی طرح ساحلی معیشت کی ترقی بھی ملکی معاشی استحکام کا اہم ستون ہے۔

پاکستان میں مینگرووز کی اہمیت اور جغرافیائی صورتحال

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا خشک آب و ہوا والا مینگرووز جنگل موجود ہے، جو زیادہ تر سندھ کے انڈس ڈیلٹا میں پھیلا ہوا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی اس کے اہم رقبے موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت مینگرووز کے رقبے کے لحاظ سے دنیا میں تقریباً ساتویں نمبر پر ہے، تاہم مسلسل بحالی اور شجرکاری مہم کے ذریعے ہم اسے چوتھے یا پانچویں نمبر تک پہنچا سکتے ہیں۔ محمد جنید انوار چوہدری نے مزید کہا کہ مینگرووز ساحلی کٹاؤ، سیلاب اور طوفانی لہروں کے خلاف قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں اور ساحلی آبادیوں، بندرگاہوں اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

معاشی اثرات اور کاربن کریڈٹ کی صلاحیت

انہوں نے خبردار کیا کہ مینگرووز کی تباہی سے غذائی تحفظ اور ماہی گیر برادریوں کا روزگار شدید متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جنگلات مچھلی، جھینگے، کیکڑے اور دیگر آبی حیات کی افزائش کے قدرتی مراکز ہیں۔ وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی مینگرووز کاربن مارکیٹ، کاربن کریڈٹس کی قیمتوں اور حجم کے لحاظ سے سالانہ اندازاً 2 کروڑ سے 5 کروڑ ڈالر تک آمدن پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں تقریباً 4,058 ہیکٹر رقبے پر پھیلے مینگرووز بھی ملک کی کاربن مارکیٹ کی حکمت عملی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مینگرووز خشکی کے عام درختوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کے پی ٹی کے اقدامات اور مستقبل کا لائحہ عمل

ماضی میں تجاوزات، آلودگی اور دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث مینگرووز کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر بحری امور نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور صوبائی ادارے ان کی بحالی کے لیے متحرک ہیں۔ کے پی ٹی نے قابضین سے مینگرووز کے کئی علاقے واگزار کرائے ہیں اور مائی کولاچی روڈ پر شجرکاری مہم کے ساتھ ساتھ صفائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کے پی ٹی نے ماحولیاتی کارکن الماس کاسمانی کو ساحلی مینگرووز کی بحالی کے لیے سفیر مقرر کیا ہے، جنہوں نے اب تک 4 ہزار پودوں کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے اور مزید ایک لاکھ پودے لگانے کا عزم کیا ہے۔ آخر میں، وفاقی وزیر نے عوامی شعور بیدار کرنے، تجاوزات کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور بلیو اکانومی کے منصوبوں میں سرکاری و نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں