مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نیتن یاہو کا غزہ اور لبنان سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ مسترد

نیتن یاہو کا غزہ اور لبنان سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ مسترد

تل ابیب (نمائندہ خصوصی)۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات سے قبل اپنی سکیورٹی کابینہ کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شام کے مختلف علاقوں سے اسرائیلی فوج کے بڑے پیمانے پر انخلا کے کسی بھی امریکی مطالبے کو سختی سے مسترد کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، سکیورٹی کابینہ کے ایک اہم اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایک فہرست فراہم کی گئی ہے جس میں غزہ، جنوبی لبنان اور شام کے کچھ کلیدی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ شامل ہے۔ انہوں نے کابینہ کے ارکان کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مطالبے کی بھرپور مخالفت کریں گے اور واشنگٹن کو دو ٹوک انداز میں “نہیں” کا جواب دیں گے۔ اس حوالے سے خطے میں شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ چاہتا ہے: صدر احمد الشرع جیسے معاملات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، غزہ جنگ، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کے دیگر تزویراتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام پر مؤثر نگرانی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ فی الحال ایسی کوئی نئی انٹیلی جنس معلومات نہیں ہیں جن سے ثابت ہو کہ ایران فوری طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس تعاون جاری ہے تاکہ اگر ایران کسی حساس سرگرمی کی جانب پیش قدمی کرے تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جس کے لیے مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں، حالیہ عالمی صورتحال پر ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی سے امریکا میں افرادی قوت کا بحران جیسے مسائل بھی امریکی ترجیحات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کا مؤقف انتہائی اہم ہے اور وہ امریکی صدر کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے منتظر ہیں، اگرچہ حتمی حکمت عملی کا فیصلہ صدر ٹرمپ کو ہی کرنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نیتن یاہو کے یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل غزہ اور لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کو قومی بقا کے لیے ضروری سمجھتا ہے، جیسا کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس وجود نہیں رکھتی، وزیراعلیٰ کا جواب کے بعد ملکی سیاست میں بھی سکیورٹی معاملات کو اولیت دی جاتی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ کی آئندہ سکیورٹی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں