میڈیا انڈسٹری کے استحکام کیلئے نئی پالیسی لا رہے ہیں، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ میڈیا انڈسٹری کو اس وقت درپیش مالی مشکلات کی بنیادی وجہ 2019ء کی پالیسیاں ہیں، جن کے باعث میڈیا اداروں کے لیے دستیاب مالی گنجائش میں نمایاں کمی آئی جس کے اثرات آج بھی برقرار ہیں۔ گزشتہ دورِ حکومت میں پریس کلبوں کے فنڈز محدود کیے گئے جبکہ ٹی وی چینلز کے سرکاری اشتہارات کے نرخ تک کم کر دیے گئے، جس سے میڈیا انڈسٹری شدید مالی مشکلات کا شکار ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کسی بھی ٹی وی چینل یا اخبار کے سرکاری اشتہارات بند نہیں کیے گئے۔ حکومت صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درپیش مالی مشکلات کے حل اور میڈیا انڈسٹری کے استحکام کے لیے نئی پالیسی متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں نیشنل پریس کلب کی ویب سائٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل، سینئر صحافی حاجی نواز رضا، نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکریٹری ڈاکٹر فرقان رائو سمیت پریس کلب کے دیگر عہدیداران اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے نیشنل پریس کلب میں انتخابی عمل کے بعد ذمہ داریوں کی منتقلی کو خوش اسلوبی سے سرانجام پانے پر سراہا اور اسے سیاستدانوں کے لیے قابل تقلید مثال قرار دیا۔ انہوں نے پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں منعقدہ مذاکرات کے دوران صحافیوں کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے تھے جس سے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا۔
ڈیجیٹائزیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل پریس کلب کا وژن اصلاحات اور جدت پر مبنی ہے۔ انہوں نے نیشنل پریس کلب کے لیے ڈیجیٹل لیب کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور اس کے لیے ہال مختص کرنے کی ہدایت کی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزارت اطلاعات میں بھی ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈیجیٹل لیب اور پوڈ کاسٹ سٹوڈیو قائم کیا گیا ہے تاکہ میڈیا ورکرز کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سہولیات میسر ہوں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے میڈیا اداروں سے یہ یقین دہانی حاصل کی ہے کہ جب بھی ان کے واجبات کی ادائیگی ہوگی تو سب سے پہلے ملازمین کا حق ادا کیا جائے گا اور ان کی زیر التواء تنخواہیں جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں میڈیا ادارے مالی طور پر مستحکم رہیں اور صحافی برادری کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی وزیر خزانہ کا اوورسیز پاکستانی سمر سکالرز سے معاشی روڈ میپ پر خطاب یا اسی طرح کی دیگر تقاریب میں معاشی امور زیر بحث آتے ہیں، تو میڈیا کی معاشی بقا بھی ہماری ترجیح ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل سکلز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت اطلاعات قائداعظم یونیورسٹی، نسٹ، کامسیٹس اور نمل یونیورسٹی کے ساتھ مل کر انفارمیشن افسران اور صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے مختصر کورسز کا انعقاد کر رہی ہے۔ ان کورسز کے اخراجات وزارت اطلاعات برداشت کرے گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں نیشنل پریس کلب کے لیے گرانٹ محدود کرنے اور اشتہارات کے نرخوں میں کمی کرنے کے فیصلے سے انڈسٹری کو جو نقصان پہنچا، اس کی تلافی کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس پلان پر اہم اجلاس کے تناظر میں بھی ہم میڈیا کے لیے مالی گنجائش پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔
آخر میں، وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ صحافیوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وزارت خارجہ کی جانب سے قونصلر سروسز کیلئے شام کی شفٹ کا آغاز کی طرز پر میڈیا کے مسائل کے حل کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیشنل پریس کلب کی جانب سے اعزازی رکنیت ملنے پر شکریہ ادا کیا اور ویب سائٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔