مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

احسن اقبال ہتک عزت کیس، مراد سعید پر 25 لاکھ ہرجانہ

احسن اقبال ہتک عزت کیس، مراد سعید پر 25 لاکھ ہرجانہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال چوہدری کی جانب سے سابق وفاقی وزیر مراد سعید کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے دعوے کا فیصلہ اسلام آباد کی عدالتِ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-VII (ویسٹ) نے احسن اقبال کے حق میں سناتے ہوئے مراد سعید کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان یہ عدالتی فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جبکہ اب تو وزرا بھی ملکی حالات پر سوال اٹھانے لگے، شاہد خاقان عباسی جیسے بیانات نے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کر رکھا ہے۔

یہ مقدمہ ہتکِ عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مراد سعید نے ملتان۔سکھر موٹروے منصوبے میں غیر قانونی مداخلت اور 70 ارب روپے کک بیکس وصول کرنے کے بے بنیاد الزامات عائد کیے، جن سے احسن اقبال کی ذاتی اور عوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل اور پیش کیے گئے شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مدعا علیہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ 29 جولائی 2026 کو جاری ہونے والے فیصلے میں عدالت نے احسن اقبال کے حق میں ڈگری جاری کرتے ہوئے مراد سعید کو 25 لاکھ روپے بطور عمومی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مدعا علیہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست تھے یا عوامی مفاد میں لگائے گئے تھے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مدعا علیہ نے محض حکومتی پالیسیوں یا انتظامی فیصلوں پر تنقید نہیں کی بلکہ مدعی پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور 70 ارب روپے غیر قانونی کمیشن وصول کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔ عدالت کے مطابق ایسے الزامات کسی بھی شخص کی دیانت، کردار اور اخلاقی ساکھ پر براہِ راست حملہ ہوتے ہیں اور اپنی نوعیت میں ہتک آمیز ہیں۔ چونکہ مدعا علیہ ان الزامات کی صداقت یا کسی قانونی جواز کو ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ان الزامات سے مدعی کی شہرت، عزت اور وقار کو نقصان پہنچا۔

فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف ان کی ذات کی نہیں بلکہ سچ، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، لیکن جھوٹ، بہتان اور کردار کشی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے بقول احتساب ہمیشہ ثبوت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، الزامات اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر نہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ فیصلہ اس حقیقت کی بھی توثیق کرتا ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف بے بنیاد کرپشن کے الزامات لگا کر عوام کو گمراہ کرنے کی سیاست قانون اور عدالت کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں نارووال سپورٹس سٹی منصوبے سے متعلق قائم کیے گئے نیب ریفرنس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں باعزت بری کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عدالتی فیصلہ اس اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن جھوٹے الزامات اور کردار کشی آزادیٔ اظہار نہیں بلکہ ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں اور قانون کے مطابق ان پر جوابدہی لازم ہے۔ واضح رہے کہ شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر مشاورت کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف قانونی مقدمات اور ان کے نتائج کو ملکی سیاسی حلقوں میں گہری دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے والد سے وابستہ معاملات بھی عوامی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالتی اور سیاسی احتساب کے عمل اب ایک ناگزیر حقیقت بن چکے ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں