*اب تو وزرا بھی ملکی حالات پر سوال اٹھانے لگے، شاہد خاقان عباسی*

*اب تو وزرا بھی ملکی حالات پر سوال اٹھانے لگے، شاہد خاقان عباسی*
اسلام آباد: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اب تو حکومت کے اپنے وزرا بھی ملکی حالات پر سوال اٹھانے لگے ہیں، جبکہ عوام تو گزشتہ کئی برسوں سے یہی مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک درست سمت میں نہیں جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو نمائشی اقدامات نہیں بلکہ حقیقی، دیرپا اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو چار سے پانچ سال بعد احساس ہوا ہے کہ ملک کے معاملات درست انداز میں نہیں چل رہے، حالانکہ عوام یہ بات عرصہ دراز سے کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے وزرا کو واقعی مسائل کا ادراک ہو گیا ہے تو انہیں یہ معاملات میڈیا کے بجائے کابینہ کے اجلاسوں میں اٹھانے چاہییں تاکہ ان کا عملی حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال نئے تجربات کرنے کے بجائے نظام کی بنیادوں کو مضبوط بنایا جائے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ یہی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی انتقام اور ایک دوسرے کو جیلوں میں بھیجنے کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام سیاست دان ہی کرپٹ قرار دیے جائیں تو پھر ملک کون چلائے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب صورتحال ہے کہ حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتیں اقتدار بھی مشترکہ طور پر چلا رہی ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کر رہی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر یقینی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی کیونکہ سرمایہ کاروں کو معلوم نہیں ہوتا کہ کب کوئی نیا ٹیکس نافذ کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ صرف نئے ٹیکس عائد کرنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے، جبکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کار دوست ماحول ناگزیر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چھ برس کے دوران عوام کی حقیقی آمدن میں کمی آئی ہے، ہر گھر کی قوتِ خرید میں تقریباً 14 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ بے روزگاری 21 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں ایک میز پر بیٹھ کر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایسی اصلاحات کی جائیں جو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، معاشی استحکام اور جمہوری نظام کو مضبوط بنائیں۔