مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کھپت دوگنی ہوگی

مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کھپت دوگنی ہوگی

پیرس (نمائندہ خصوصی)۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے، اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق 2030 تک ان کی سالانہ بجلی کی کھپت دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر تقریباً 945 ٹیرا واٹ آور (TWh) تک پہنچ جائے گی، جو تقریباً جاپان کی موجودہ سالانہ بجلی کی مجموعی کھپت کے برابر ہے۔

ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب

آئی ای اے کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز نے تقریباً 415 ٹیرا واٹ آور بجلی استعمال کی، جو عالمی بجلی کی مجموعی طلب کا تقریباً 1.5 فیصد تھی۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث 2030 تک یہ حصہ بڑھ کر تقریباً 3 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سے لیس جدید سرورز اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب میں اوسطاً 15 فیصد سالانہ اضافہ متوقع ہے، جو دیگر شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب میں سب سے زیادہ اضافہ ہوگا، جبکہ چین دوسرے نمبر پر رہے گا۔ امریکہ میں 2030 تک بجلی کی مجموعی طلب میں ہونے والے اضافے کا تقریباً نصف حصہ صرف ڈیٹا سینٹرز سے منسلک ہوگا، اور یہ شعبہ ایلومینیم، اسٹیل، سیمنٹ، کیمیکلز اور دیگر توانائی سے بھرپور صنعتوں کے مجموعی استعمال سے بھی زیادہ بجلی استعمال کرے گا۔ اس حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ معاشی استحکام برقرار رہ سکے۔

توانائی کے ذرائع اور مستقبل کا لائحہ عمل

آئی ای اے کے مطابق اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی اہم کردار ادا کرے گی اور اضافی بجلی کا تقریباً نصف حصہ ونڈ اور سولر سمیت صاف توانائی کے ذرائع سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی گیس، جوہری توانائی، بیٹری اسٹوریج، بجلی کے گرڈ کی توسیع اور جیو تھرمل توانائی بھی مستقبل کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ یاد رہے کہ حالیہ عالمی صورتحال میں امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت کیوں نہیں ٹوٹی؟ نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جو توانائی کی منتقلی اور معاشی لچک پر روشنی ڈالتی ہے۔

اے آئی ٹیکنالوجی: چیلنج یا حل؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھے گا، تاہم یہی ٹیکنالوجی توانائی کے مؤثر استعمال، بجلی کے نظام کو بہتر بنانے اور سائنسی و صنعتی ترقی کو تیز کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت سفارتی مشنز کی تنظیم نو کا اجلاس جیسے اقدامات تکنیکی ترقی کے فروغ کے لیے ضروری ہیں۔ آئی ای اے نے زور دیا ہے کہ اے آئی کے دور کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار اور گرڈ انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہوگی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں