مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش

وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وسطی ایشیا کے ممالک پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی کے لیے نئی تجارتی راہداری کے قیام کی کوششیں تیز کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈیوں تک کم لاگت اور مختصر فاصلے کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات اس منصوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی جریدے آئل پرائس کی رپورٹ کے مطابق خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک، جن میں قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان اور تاجکستان شامل ہیں، بحیرہ عرب تک رسائی کے لیے پاکستان کی کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں کو انتہائی اہم تجارتی گیٹ وے تصور کرتے ہیں۔ یہ وہی خطہ ہے جہاں معاشی استحکام کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت سفارتی مشنز کی تنظیم نو کا اجلاس بھی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے راستے پاکستان تک پہنچنے والی راہداری ان ممالک کے لیے سب سے مختصر اور کم خرچ راستہ سمجھی جاتی ہے۔

تجارتی راہداری کے اقتصادی فوائد

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ راہداری مکمل طور پر فعال ہو جائے تو وسطی ایشیا کے ممالک کو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، افریقہ اور دیگر عالمی منڈیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہو سکے گی، جبکہ پاکستان کو بھی ٹرانزٹ تجارت، بندرگاہی سرگرمیوں اور لاجسٹکس کے شعبے میں نمایاں معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور سکیورٹی خدشات نے اس منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ سرحدی پابندیوں کے باعث ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس سے وسطی ایشیائی ممالک نے متبادل راستوں پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

گوادر کی اسٹریٹجک اہمیت

رپورٹ کے مطابق اگرچہ وسطی ایشیائی ریاستیں دیگر راہداریوں، بشمول ایران اور بحیرہ کیسپین کے راستوں، کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم پاکستان کی بندرگاہیں اب بھی جغرافیائی اعتبار سے سب سے موزوں اور اقتصادی طور پر زیادہ مؤثر راستہ تصور کی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں گوادر بندرگاہ کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے باعث گوادر مستقبل میں وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم علاقائی تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔ گوادر کی بحیرہ عرب کے قریب اسٹریٹجک پوزیشن اسے بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تجزیے کے مطابق اگر افغانستان میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہوتی ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان تجارتی تعاون میں پیش رفت ہوتی ہے تو ٹرانس افغان راہداری نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ پورے خطے کی تجارت کا نقشہ تبدیل کر سکتی ہے۔ اس سے پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، ٹرانزٹ فیس کی مد میں آمدنی میں بہتری اور علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں جیسا کہ وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے قرضوں میں اضافے کی ہدایت بھی معاشی بہتری کا ایک حصہ ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک اپنی برآمدات کے لیے کسی ایک راستے پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ متبادل تجارتی راہداریوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم پاکستان تک رسائی کو اب بھی اپنی طویل المدتی تجارتی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی تجارتی پالیسیوں میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں، اور ماضی میں جس طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی، اسی طرح انفراسٹرکچر کی بہتری بھی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق وسطی ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے والا مؤثر زمینی اور ریلوے نیٹ ورک نہ صرف علاقائی تجارت کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ پاکستان کو بھی ایشیا میں ایک اہم ٹرانزٹ اور لاجسٹکس مرکز کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے علاقائی تعاون، سیاسی استحکام، بہتر سکیورٹی اور سرحد پار تجارتی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہوگا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں