مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیرالعظیم طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیرالعظیم طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل، ممتاز دینی، سیاسی اور تنظیمی رہنما امیرالعظیم طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور زیر علاج تھے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وفات سے تحریک اسلامی ایک مدبر، مخلص اور باصلاحیت رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔

تعلیمی سفر اور سیاسی وابستگی کا آغاز

امیرالعظیم کا شمار جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز زمانۂ طالب علمی سے کیا۔ وہ طالب علمی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے باعث جلد ہی نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر رہے جبکہ بعد ازاں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک میں ان کا کردار نمایاں رہا اور اسی جدوجہد کے دوران انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

تنظیمی خدمات اور سیاسی سفر

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں جماعت اسلامی کی تنظیمی اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیں۔ وہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات، جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر، جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر سمیت مختلف اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ 2019ء میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے جماعت کی تنظیمی استحکام، سیاسی حکمت عملی اور عوامی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ جس طرح وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ٹیلیفون پر اہم گفتگو جیسے معاملات پر وہ اپنی رائے دیا کرتے تھے، اب وہ خود ایک تاریخی حوالہ بن چکے ہیں۔

شخصیت اور علمی و سیاسی خدمات کا اعتراف

مرحوم اپنی سادہ طرز زندگی، اصولی سیاست، شائستہ مزاجی اور تنظیمی نظم و ضبط کے حوالے سے کارکنان اور سیاسی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ مختلف قومی، سماجی اور مذہبی امور پر جماعت اسلامی کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرتے رہے اور نوجوانوں کی تربیت کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ان کے انتقال کو جماعت اسلامی کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ امیرالعظیم نے اپنی پوری زندگی دین کی سربلندی، تحریک اسلامی کے استحکام اور پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سمیت مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ جس طرح سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور جیسے موضوعات پر ان کی گہری نظر تھی، وہ اپنی علمی سوچ کی بدولت ہر حلقے میں مقبول رہے۔ اگرچہ خالد حسین مگسی کا ای سی او سائنس فاؤنڈیشن اجلاس سے خطاب جیسی تقریبات میں وہ اکثر شریک ہوتے تھے، اب ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔

ٹیگز:
شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں