خالد حسین مگسی کا ای سی او سائنس فاؤنڈیشن اجلاس سے خطاب
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے اسلام آباد میں ای سی او سائنس فاؤنڈیشن (ECOSF) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی صراف، وفاقی سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ، ای سی او کے سیکرٹری جنرل سفیر اسد مجید خان، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر سید کمال طیبی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام محمد میمن، سینئر سرکاری حکام اور ای سی او کے رکن ممالک کے ممتاز مندوبین نے بذریعہ بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔
علاقائی سائنسی تعاون کا فروغ
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے اسلام آباد میں موجود معزز مندوبین اور آن لائن شریک ہونے والے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چھٹے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ کے تناظر میں ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کو سائنسی تحقیق، جدت، علم کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ایک مؤثر علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اجلاس ای سی او کے رکن ممالک کے اس مشترکہ عزم کا مظہر ہے کہ وہ علاقائی سائنسی تعاون کو مزید مستحکم کرتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کو پائیدار ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے بنیادی ستون بنائیں گے۔
مشترکہ چیلنجز اور سائنسی حل
وفاقی وزیر نے کہا کہ ای سی او خطہ نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، مضبوط علمی روایات اور تیزی سے فروغ پاتی تکنیکی صلاحیتوں کے باعث بے پناہ امکانات کا حامل ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی اور غذائی تحفظ، توانائی کی منتقلی، صحتِ عامہ، ڈیجیٹل عدم مساوات اور نوجوانوں میں بے روزگاری جیسے مشترکہ چیلنجز ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے انفرادی قومی کوششوں کے بجائے مشترکہ علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے حصول میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق سائنسی تحقیق، STEM تعلیم، اختراعی نظام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری خطے کی اقتصادی مسابقت، صنعتی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کی حمایت اور چارٹر کی توثیق
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی نے ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں تعاون خطے کی پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے ای سی او کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے چارٹر اور اس کے اضافی پروٹوکول کی توثیق کے عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 33 ویں آسیان ریجنل فورم کیلئے فلپائن روانہ ہو چکے ہیں اور پاکستان عالمی سطح پر سائنسی سفارتکاری کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایک مضبوط اور فعال ای سی او سائنس فاؤنڈیشن پورے خطے میں سائنسی تعاون، اختراع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔