انس سرور برطانیہ میں منسٹر آف اسٹیٹ برائے بزنس تعینات

لندن (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان انس سرور کو برطانیہ کے محکمہ بزنس، انوویشن، سائنس اینڈ ٹریڈ میں منسٹر آف اسٹیٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت بھی دی گئی ہے، جس کے بعد وہ وزیراعظم اینڈی برنہم کی حکومت کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کی تقرری کو برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ انس سرور نے نئی حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے اسکاٹش لیبر پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ دیا۔ اپنے نئے منصب پر وہ تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری ترقی، صنعتی حکمت عملی اور بین الاقوامی تجارتی روابط سے متعلق امور میں حکومت کی معاونت کریں گے۔
1983 میں گلاسگو میں پیدا ہونے والے انس سرور سابق گورنر پنجاب اور برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ دندان ساز (ڈینٹسٹ) رہے، تاہم بعد ازاں عملی سیاست میں آئے۔ 2010 میں پہلی مرتبہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ 2021 سے 2026 تک اسکاٹش لیبر پارٹی کے رہنما رہے۔ انہیں برطانیہ کی کسی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان اور پہلے ایشیائی نژاد رہنما ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
عوامی خدمت کا نیا سفر
اپنی تقرری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انس سرور نے کہا کہ نئی ذمہ داری ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ماحول کی بہتری اور عالمی تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ڈیجیٹل معیشت کا ثمر ہے، وزیراعظم نے بھی حال ہی میں عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ انس سرور نے اسکاٹش لیبر پارٹی کے کارکنوں اور قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت کا سفر وہ پہلے سے زیادہ جذبے کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
سیاسی اثرات اور مستقبل کے امکانات
سیاسی مبصرین کے مطابق انس سرور کی نئی تقرری نہ صرف برطانوی سیاست میں پاکستانی نژاد کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کا مظہر ہے بلکہ اس سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے نئے مواقع بھی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اے آر ایف اجلاس سے خطاب میں بھی دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا گیا تھا۔ حکومتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انس سرور کے تجارتی قلمدان سنبھالنے سے وزیراعظم شہباز شریف کی چینی کمپنی فیمسن کے وفد سے ملاقات کی طرز پر بیرونی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے میں مدد مل سکتی ہے، اگرچہ ان کی کابینہ میں شمولیت پر برطانوی سیاسی حلقوں میں مختلف آراء بھی سامنے آئی ہیں۔