مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اے آر ایف اجلاس سے خطاب

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اے آر ایف اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی برادری اور آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کے بنیادی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کریں۔ جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات ہیں۔ نائب وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو منیلا میں اے آر ایف کے 33 ویں وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عالمی اور علاقائی سلامتی کو درپیش آٹھ بڑے چیلنجوں کا ذکر کیا جن میں جنوبی ایشیا کا استحکام، خلیج کی صورتحال، غزہ، انسداد دہشت گردی، افغانستان، یوکرین، جنوبی بحیرہ چین اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔

خطے میں قیامِ امن اور کشمیریوں کے حقوق

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ دیرینہ تنازعات بالخصوص بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل نہ کیے جانے سے علاقائی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ محمد اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی زندگی اور روزگار کو خطرہ لاحق ہے۔

عالمی بحران اور پاکستان کا کردار

خلیج کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی حالیہ صورتحال نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے کردار کا اعادہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے غزہ میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ عالمی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) سمیت کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ ان کی یہ کاوشیں خطے میں معاشی استحکام لانے میں معاون ثابت ہوں گی، جیسا کہ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور دینے جیسے اقدامات سے بھی واضح ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور آسیان کے ساتھ تعاون

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود ملک شدید متاثر ہے، لہٰذا بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آسیان کے اتفاق رائے پر مبنی طرز عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، اور غذائی تحفظ جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے یورپی یونین کی جانب سے جدید بایونک آنکھ کی منظوری ایک مثبت پیشرفت ہے۔ نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ آسیان ریجنل فورم کو بات چیت اور عملی تعاون کے ذریعے سلامتی کو درپیش بدلتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا چاہیے، بالخصوص جبکہ خالد حسین مگسی کا ای سی او سائنس فاؤنڈیشن اجلاس سے خطاب میں بھی علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں