مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی اہم ملاقات، آزاد کشمیر انتخابات پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی اہم ملاقات، آزاد کشمیر انتخابات پر تبادلہ خیال (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال سمیت بالخصوص آزاد جموں و کشمیر کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آزاد کشمیر انتخابات اور سیاسی صورتحال

اس اہم بیٹھک میں آزاد کشمیر میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کی تیاریوں، وہاں کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل کو زیر بحث لایا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ آزاد کشمیر میں ایک آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابی عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ جمہوری اقدار کے مطابق پرامن ماحول میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔

بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی اہم ملاقات، آزاد کشمیر انتخابات پر تبادلہ خیال (تصویر 2)

یہ ملاقات ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر کا سیاسی منظرنامہ کافی گرم ہے اور وہاں مختلف سیاسی مطالبات اور احتجاجی کالز کے باعث سکیورٹی اور انتظامی امور پر گہری توجہ دی جا رہی ہے۔ جیسا کہ ملک بھر میں او آئی سی وزارتی کانفرنس میں پاکستان کی کامیاب میزبانی کی تعریف کی گئی ہے، اسی طرح اب ملکی سطح پر سیاسی استحکام کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اتحادی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی

اس پس منظر میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں بڑی اتحادی جماعتیں گلگت بلتستان کے سیاسی اشتراک کی طرح اب آزاد کشمیر میں بھی انتخابی اور بعد از انتخابات کے سیاسی فارمولوں پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ خطے میں سیاسی و انتظامی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اس تناظر میں یہ پیشرفت او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس، اسلام آباد اعلامیہ منظور کر لیا گیا کے بعد حکومت کی سیاسی حکمت عملی میں ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص اور اندرونی طور پر سیاسی استحکام کے عزم کا اظہار تھی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں