وفاقی وزیر قانون کا ملک بھر میں مصالحت کے نظام کو وسعت دینے کا اعلان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت Alternative Dispute Resolution (ADR) اور مصالحت کے مؤثر نظام کو پورے ملک میں وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ غیر سنجیدہ اور بے بنیاد مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی قانونی اصلاحات جاری ہیں۔ وہ پیر کو انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) میں سول، کمرشل اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے پانچ روزہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مقدمہ بازی کے موجودہ کلچر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری اور غیر سنجیدہ مقدمہ بازی نے عدالتی نظام پر بوجھ بڑھایا ہے جس سے انصاف کی بروقت فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام کی اصلاح اور تجدید کی ضرورت ہے، خواہ معاملہ دیوانی ہو یا فوجداری۔ اس سلسلے میں قانون سازی کے ذریعے اہم پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ مزید اقدامات اور قواعد پر کام جاری ہے۔ پاکستان کی بنگلہ دیش کو قانونی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن میں تعاون کی پیشکش کے تناظر میں، وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی اصلاحات کے لیے Law & Justice Commission of Pakistan، سپریم کورٹ آف پاکستان، ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام جاری ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سستا اور فوری انصاف نہ صرف آئینی اصولوں اور ریاستی پالیسی کا تقاضا ہے بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اصلاحات کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں Alternative Dispute Resolution (ADR) اور مصالحت کے مؤثر نظام کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈی ایشن کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور علماء و مشائخ کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے Hon’ble Justice Mr. Miangul Hassan Aurangzeb, Judge, Supreme Court of Pakistan نے کہا کہ فریقین کو جہاں ممکن ہو عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے ثالثی کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کو ثالثی کے لیے ریفر کیا جا رہا ہے اور عدالت سے منسلک ثالثی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے منسلک میڈی ایشن سینٹر کے ذریعے فریقین کو کم لاگت اور بروقت تنازعات کے حل کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے Dispute Resolution Act 2017 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالثی اور متبادل تنازعاتی حل کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے، تاہم عوام میں اس نظام اور اس کے فوائد کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے ڈسکوز کے ری سٹرکچرنگ پلان کی منظوری کی طرح ہی عدالتی نظام میں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ غیر ضروری بوجھ کو ختم کیا جا سکے۔
عالمی تعاون اور مستقبل کا لائحہ عمل
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے Dr. Umar A. Oseni, Secretary General, OIC-AC نے کہا کہ سول، مالی اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے اصولوں کو ایک جامع تربیتی فریم ورک میں یکجا کرنا اہم پیش رفت ہے۔ اس موقع پر Ms. Aisha Rasool, Senior Consultant, Ministry of Law & Justice / Project Director, IMAC نے کہا کہ علماء کرام کو ثالثی کی تربیت فراہم کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ قیصر احمد شیخ کا بی ایف سی اسلام آباد کا دورہ، کارکردگی کا جائزہ کے بعد حکومتی اداروں میں کارکردگی بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں اسناد اور سووینئرز تقسیم کیے گئے۔