مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

کابینہ کمیٹی کی جانب سے ڈسکوز کے ری سٹرکچرنگ پلان کی منظوری

کابینہ کمیٹی کی جانب سے ڈسکوز کے ری سٹرکچرنگ پلان کی منظوری

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پہلے بیچ (بیج-1) میں شامل فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ری سٹرکچرنگ پلان کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ حکومت پاکستان کی جانب سے پاور سیکٹر کی وسیع تر اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد ایسی تقسیم کار کمپنیوں کی بنیاد ڈالنا ہے جو مالی طور پر پائیدار، پیشہ ورانہ طور پر منظم، اور ڈیجیٹل طور پر فعال ہوں، تاکہ گھریلو، کاروباری اور صنعتی صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

اصلاحاتی عمل اور مالیاتی ڈھانچہ

وزارت نجکاری اور نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق، منظور کردہ منصوبے کے تحت منتخب اثاثہ جات بشمول زمین کے تمام ٹکڑے، اور منتخب واجبات بشمول ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام تر واجبات، حکومت پاکستان کی ملکیت میں قائم کی جانے والی کمپنی، یعنی سپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) میں منتقل کیے جائیں گے۔ دوسری جانب، موجودہ ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے متعلق تمام معاملات اور واجبات ڈسکوز کے ذمہ رہیں گے۔ یاد رہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں مختلف معاشی فیصلوں کی منظوری دی گئی تھی، جس کے تسلسل میں نجکاری کا یہ عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ملازمین کے حقوق اور صارفین کا تحفظ

تنظیم نو کا یہ منصوبہ حکومت پر کسی بھی قسم کے اضافی مالی بوجھ سے پاک ہے اور اس کا بنیادی مقصد حکومت پاکستان کے لیے قدر میں اضافہ کرنا اور لین دین کو قابل عمل بنانا ہے۔ حکومت اس بات کا مکمل ادراک رکھتی ہے کہ ان اصلاحات کا صارفین، ملازمین، صنعت اور مقامی کمیونٹیز پر براہ راست اثر پڑے گا، اس لیے خدمات کا تسلسل اس پورے عمل میں سب سے اہم ترجیح رہے گا۔ ملازمین کے مفادات کا تحفظ قابلِ اطلاق قوانین اور لین دین کے طے شدہ طریق کار کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ تمام سٹیک ہولڈرز کو عمل کے ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا جائے گا۔

ریگولیٹری فریم ورک اور مستقبل کا لائحہ عمل

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ صارفین کو پاکستان کے موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مکمل تحفظ حاصل رہے گا۔ بجلی کے نرخوں کا تعین نیپرا (NEPRA) کے وضع کردہ عمل اور حکومتی نوٹیفکیشن کے ذریعے ہوتا رہے گا، جبکہ اس اصلاحاتی عمل سے معیار، کارکردگی اور کسٹمر سروس میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو مشترکہ طور پر پاکستان کے بڑے صنعتی، تجارتی اور شہری مراکز میں 14 ملین سے زائد صارفین کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری نہ صرف بجلی کے نرخوں کو قابو میں رکھنے کے لیے معاون ثابت ہوگی بلکہ ملکی معیشت میں بجلی کی مسابقتی قیمت پر فراہمی کو بھی یقینی بنائے گی، جس سے پاکستان کے مالیاتی نظام میں استحکام آئے گا، جیسا کہ ماضی میں بی آئی ایس پی کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام متعارف کروا کر شفافیت لائی گئی تھی۔ یہ ری سٹرکچرنگ پلان روایتی رکاوٹوں سے نکل کر ایک جدید، جوابدہ اور صارفین دوست نظام کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت ہے، جس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔ جیسا کہ حال ہی میں قیصر احمد شیخ کا بی ایف سی اسلام آباد کا دورہ کیا گیا، جس میں کارکردگی کو جانچنے پر زور دیا گیا، اسی طرح توانائی کے شعبے میں بھی شفافیت کا یہ عمل ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں