سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے

دوہا (نمائندہ خصوصی)۔ قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی، جنہیں جدید قطر کا معمار سمجھا جاتا ہے، 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ قطری حکومت نے ان کے انتقال کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
شیخ حمد نے 1995 سے 2013 تک قطر کی قیادت کی اور بعد ازاں ایک تاریخی سیاسی اقدام کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے اور موجودہ امیرِ قطر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا۔ ان کے دورِ حکومت میں قطر نے اپنے وسیع قدرتی گیس کے ذخائر کی بدولت غیر معمولی معاشی ترقی کی اور پاکستان تیل ذخیرہ کرنے کا مرکز بننے کے لیے پرعزم، وزیر بحری امور کی طرح قطر نے بھی عالمی سطح پر اپنی معاشی شناخت مضبوط کی۔
قطر کی ترقی میں شیخ حمد کا کلیدی کردار
انہوں نے قطر ایئرویز اور الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں کی توسیع کی سرپرستی کی، جبکہ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے حصول کی بنیاد بھی انہی کے دور میں رکھی گئی تھی۔ یہ دور قطر کی خارجہ پالیسی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا، جہاں انہوں نے علاقائی تنازعات میں ثالثی کے ذریعے قطر کے عالمی وقار اور اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کیا۔ جیسا کہ حال ہی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کے استحکام پر زور دیا گیا، شیخ حمد کی پالیسیاں بھی اسی طرز پر خطے میں امن کی خواہاں رہیں۔
دنیا بھر کے رہنماؤں نے شیخ حمد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک دور اندیش رہنما قرار دیا ہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ قطر آج مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بااثر اور ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ملک کے مختلف ترقیاتی امور پر ہونے والی پیشرفت جیسا کہ اسلام آباد میں مختلف اہم قومی اور انتظامی امور پر پیشرفت کے تناظر میں دیکھا جائے تو شیخ حمد کی وراثت قطر کی ترقی کی بنیاد ہے۔