پاکستان تیل ذخیرہ کرنے کا مرکز بننے کے لیے پرعزم، وزیر بحری امور

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انوار نے کہا ہے کہ حکومت کے انرجی سٹی منصوبے میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد کئی آئل پیدا کرنے والے ممالک پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت نجی کمپنیاں حکومت سے زمین کرائے پر حاصل کرکے جدید آئل اسٹوریج سہولیات قائم کریں گی جہاں تیل کو ڈیوٹی فری بنیادوں پر ذخیرہ اور برآمد کیا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس خود اتنا سرمایہ نہیں کہ بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک ذخائر قائم کر سکے، تاہم اس ماڈل کے ذریعے نہ صرف سرمایہ کاری آئے گی بلکہ مشکل وقت میں یہ ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔ یہ بات انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر کہی۔ اسی طرح کی حکومتی اصلاحات پر نظر ڈالیں تو پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ معیشت پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔
لاہور چیمبر میں خطاب اور سمندری معیشت کا فروغ
اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے وزیر کا خیر مقدم کیا۔ تقریب میں سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، اور کاروباری برادری کی بڑی تعداد موجود تھی۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان اپنی تقریبا ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کے باوجود بلیو اکانومی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری معیشت کے شعبے میں موجود مواقع سے استفادہ کرکے اربوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بندرگاہوں پر ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحاتی اقدامات
وفاقی وزیر محمد جنید انوار نے کہا کہ وزارت میری ٹائم افیئرز نے اب تک 100 سے زائد اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ 99 ویں نمبر سے 69 ویں نمبر پر آگیا ہے جبکہ پورٹ قاسم کی رینکنگ بہتر ہو کر 56 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے رواں سال اپنی 138 سالہ تاریخ کا ریکارڈ توڑا جبکہ ادارے کا منافع 18.8 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ حکومت ملک میں اسلام آباد کی غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ جیسے اقدامات کے ذریعے بھی معاشی استحکام چاہتی ہے۔
شپنگ، لاجسٹکس اور مستقبل کے منصوبے
محمد جنید انوار نے کہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے فلیٹ میں تین نئے جہاز شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانس شپمنٹ پر پورٹ چارجز میں 50 فیصد تک کمی کی گئی جس سے کاروباری برادری کو ریلیف ملا۔ وزیر نے مزید کہا کہ فلوٹنگ ایل این جی ٹرمینل کے علاوہ لینڈ بیسڈ ایل این جی ٹرمینل کے قیام کی تکنیکی اسٹڈی مکمل کر لی گئی ہے جس میں 3 سے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کی کاوشیں احسن اقبال: آپریشن بنیان مرصوص نے پاکستان کا عالمی وقار بڑھایا کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔ منوڑہ شپ یارڈ کو دوبارہ فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ جہازوں کی مرمت اور سروسنگ کے لیے بیرون ملک نہ جانا پڑے۔