جرمنی میں ہوا اور شمسی توانائی فوسل فیول سے آگے نکل گئی

برلن (نمائندہ خصوصی)۔ جرمنی نے صاف توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلی بار سالانہ بنیاد پر ہوا اور شمسی توانائی سے اتنی بجلی پیدا کی ہے جو کوئلے، تیل اور قدرتی گیس سمیت فوسل فیول سے حاصل ہونے والی بجلی سے زیادہ ہے۔
توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی
توانائی کے تحقیقی ادارے Energy Institute کے مطابق 2025 کے دوران جرمنی کی مجموعی بجلی کا 44 فیصد حصہ ہوا اور شمسی توانائی سے حاصل ہوا، جبکہ فوسل فیول سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ تقریباً 43 فیصد رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت جرمنی کے “انرجی وینڈے” (Energiewende) پروگرام کی بڑی کامیابی ہے، جس کے تحت ملک بتدریج فوسل فیول پر انحصار کم کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت کیوں نہیں ٹوٹی؟ نئی رپورٹ کی طرح ایک اہم معاشی و توانائیاتی پیش رفت ہے جو عالمی رجحانات کو تبدیل کر رہی ہے۔
مستقبل کے اہداف اور حکومتی اقدامات
جرمنی 2023 میں اپنے تمام جوہری بجلی گھروں کو بند کر چکا ہے اور اس کا ہدف 2038 تک کوئلے سے بجلی کی پیداوار مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ حکومت 2045 تک خالص صفر (Net Zero) کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے لیے گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کو بھی مستقبل میں گرین ہائیڈروجن پر منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جس طرح نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت سفارتی مشنز کی تنظیم نو کا اجلاس میں پالیسی سازی پر توجہ دی گئی، اسی طرح جرمن حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے لیے منصوبوں کی منظوری کا عمل آسان بنایا، اجازت ناموں کا نظام ڈیجیٹل کیا اور صاف توانائی کے منصوبوں کو عوامی مفاد کا درجہ دیا، جس سے ان پر عمل درآمد میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
یورپی یونین پر اثرات
جرمنی کی اس کامیابی کو یورپ میں صاف توانائی کے فروغ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ 2025 کے دوران پہلی مرتبہ یورپی یونین میں بھی ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کا مجموعی حصہ فوسل فیول سے زیادہ رہا، جہاں ونڈ اور سولر کا حصہ 30 فیصد جبکہ فوسل فیول کا حصہ 29 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ جیسے وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش کر رہے ہیں، اسی طرح یورپ بھی توانائی کے تحفظ کے لیے نئے راستوں اور ذرائع پر انحصار بڑھا رہا ہے۔