مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایچ ای سی نے جامعات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی پالیسی جاری کردی

ایچ ای سی نے جامعات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی پالیسی جاری کردی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک کی جامعات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذمہ دارانہ، شفاف اور اخلاقی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پہلی مرتبہ ایک جامع مسودہ پالیسی جاری کر دی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول فراہم کرنا اور ہر جامعہ کو اپنی ضروریات کے مطابق ادارہ جاتی پالیسی تشکیل دینے کی ترغیب دینا ہے۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں جاری تعلیمی اصلاحات کے ضمن میں آئی ایم ایف کی شرائط بجلی نرخوں میں اصلاحات کی راہ میں حائل ہونے جیسے چیلنجز کے باوجود تعلیمی شعبے میں ڈیجیٹل جدت لانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کا فروغ

مسودہ پالیسی کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ AI کو تدریس، تحقیق، سیکھنے اور علمی سرگرمیوں میں معاون ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، تاہم اسے نقل، امتحانی بے ضابطگی یا طلبہ کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

تعلیمی دیانت اور تحقیقی معیار کا تحفظ

پالیسی میں جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اساتذہ، طلبہ اور محققین کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق واضح قواعد و ضوابط وضع کریں۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ AI سے تیار کردہ مواد کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے تعلیمی دیانت، تحقیقی معیار اور علمی ساکھ برقرار رہے۔ حال ہی میں نئے صوبوں کا قیام مؤثر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، بزنس لیڈرز زاہد اقبال، شاہد عمران اور سیف الرحمان کا مشترکہ بیان بھی سامنے آیا ہے جس کا مقصد ملکی نظام میں شفافیت لانا ہے۔

تربیتی پروگرام اور استعداد کار میں اضافہ

ایچ ای سی نے اساتذہ اور طلبہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور آگاہی مہمات کے انعقاد کی بھی سفارش کی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت سے مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں استفادہ کیا جا سکے۔

مشاورت کا عمل

کمیشن نے مسودہ پالیسی پر جامعات، ماہرین تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور آراء طلب کی ہیں۔ ان آراء کی روشنی میں حتمی پالیسی مرتب کی جائے گی جو ملک بھر کی جامعات میں نافذ العمل ہوگی۔ اس ضمن میں حکومتی سطح پر ہونے والے فیصلوں کی اہمیت کا اندازہ وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس منعقد ہونے سے لگایا جا سکتا ہے جہاں مختلف پالیسی سازی کے معاملات پر غور کیا گیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں