وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس منعقد

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا جس میں عوامی اہمیت کے حامل متعدد مالیاتی امور اور منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ملکی معیشت کی بہتری اور سرکاری اداروں کے مالیاتی استحکام کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے مالیاتی گرانٹ کی منظوری
اجلاس کے دوران وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی سی) کے حق میں ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کے اجرا سے متعلق سمری پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ای سی سی نے پی ٹی وی سی کے آپریشنل اور ناگزیر انتظامی اخراجات کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ہر سہ ماہی میں 3.25 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر پی ٹی وی سی کے لیے ایک جامع مالیاتی پائیداری کا لائحہ عمل تیار کرے اور اسے دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کیا جائے۔
سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے کے لیے حکومتی ضمانتیں
ای سی سی نے وزارت مواصلات کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری پر غور کرتے ہوئے سیالکوٹ (سمبڑیال) -کھاریاں موٹروے (ایم-12) منصوبے کے لیے 27.62 ارب روپے مالیت کی خودمختار حکومتی ضمانتیں جاری کرنے کی منظوری دی۔ یہ اہم منصوبہ بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (بی او ٹی) ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس اقدام سے مؤثر طرز حکمرانی کو فروغ ملے گا۔ مزید برآں، کمیٹی نے اس منصوبے کے لیے پہلے سے جاری 6.944 ارب روپے کی آپریشنل وائیبلٹی گیپ فنڈنگ (VGF) کو رول اوور کرنے کی منظوری بھی دی۔ ان ضمانتوں سے رعایتی معاہدہ رکھنے والی کمپنی (Concessionaire) کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت منصوبے کی مالیاتی تکمیل (Financial Close) میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں شرکاء کی شرکت
اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر توانائی (بجلی) سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی سیکریٹریز اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی اور بجلی نرخوں میں اصلاحات اور دیگر معاشی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔