اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کو رہائش گاہ خالی کرنے کا نوٹس

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے رجسٹرار کی جانب سے جسٹس بابر ستار کو سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کا باضابطہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹس میں جج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی سرکاری رہائش گاہ مقررہ مدت کے اندر خالی کر دیں۔
رہائش گاہ خالی کرنے کی ڈیڈ لائن
اسٹیٹ آفس کی جانب سے جسٹس بابر ستار کی رہائش گاہ کی الاٹمنٹ 3 جولائی کو منسوخ کر دی گئی تھی، جس کی بنیادی وجہ ان کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ تبادلہ ہے۔ نوٹس کے مطابق، 30 دن کی قانونی مدت 3 جولائی سے لاگو ہو گی، جس کا مطلب ہے کہ جسٹس بابر ستار کو 3 اگست تک گھر خالی کرنا ہوگا۔ اس صورتحال نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ہونے جیسی انتظامی امور کی بحث کو ایک بار پھر ہوا دی ہے۔
جسٹس بابر ستار کا موقف اور انتظامیہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار کی جانب سے یہ خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ وہ پشاور ہائی کورٹ میں تعیناتی کے دوران بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر رہ سکیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو اپنے موقف سے آگاہ بھی کیا تھا۔ یاد رہے کہ عدالتی امور اور رہائش کے معاملات پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے، جیسا کہ پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار دینے جیسے حکومتی اقدامات کے بعد انتظامی فیصلوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
قانونی پس منظر اور عدالتی فیصلہ
جسٹس بابر ستار نے 2023 میں ایک اہم فیصلے میں یہ اصول وضع کیا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں کے جج اپنی تقرری سے لے کر مدتِ ملازمت کے اختتام تک سرکاری رہائش کے حق دار ہیں۔ ان کے فیصلے کے مطابق، یہ حق صدارتی حکم نامے کے تحت حاصل ہوتا ہے نہ کہ وفاقی ملازمین کے عمومی رہائشی قواعد کے تحت۔ یہ معاملہ کافی حساس نوعیت کا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایف بی آر کا آن لائن ٹیکس سسٹم 36 گھنٹے کیلئے بند ہونے سے ملک بھر میں مالیاتی امور متاثر ہوتے ہیں۔
متعلقہ حکام کا دورہ
ذرائع کے مطابق کچھ روز قبل متعلقہ حکام جسٹس بابر ستار کی اسلام آباد رہائش گاہ پر پہنچے تھے، تاہم وہ عدالتی چھٹیوں پر ہونے کے باعث گھر پر موجود نہیں تھے۔ اس صورتحال کے بعد حکام بغیر کارروائی کے واپس چلے گئے تھے، لیکن اب نوٹس کے اجرا کے بعد اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔