پاکستان اور ایتھوپیا کا زراعت و لائیو اسٹاک شعبوں میں تعاون

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایتھوپیا زراعت، لائیو اسٹاک، غذائی تحفظ، زرعی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے ایتھوپیا کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر اومر حسین اوبا سے ملاقات کے دوران ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
زرعی و تجارتی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
اجلاس کے دوران دونوں زرعی معیشتوں کے درمیان تعاون کے بڑھتے ہوئے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر بھرپور زور دیا گیا کہ موجودہ دوستانہ تعلقات اور خیرسگالی کو عملی منصوبوں، تجارتی مواقع اور پائیدار ادارہ جاتی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کو زرعی تحقیق، جدید زرعی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی کے جدید نظام، لائیو اسٹاک کی ترقی اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ میں وسیع تجربہ حاصل ہے، اور پاکستان اپنے برادر ملک ایتھوپیا کے ساتھ اپنی تکنیکی مہارت اور تجربات شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ جیسے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایس سی او اجلاس کا انعقاد کے بعد سے پاکستان اپنی سفارتکاری میں معاشی استحکام کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔
مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام
وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک زرعی تحقیق، فصلوں کی پیداوار میں اضافے، معیاری بیجوں کی مقامی تیاری، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، جدید آبپاشی، زرعی میکانائزیشن اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون کو نمایاں طور پر وسعت دے سکتے ہیں۔ رانا تنویر حسین نے ایتھوپیا میں پاکستانی زرعی مشینری، ٹریکٹرز، آبپاشی کے نظام اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ سے متعلق پاکستانی مہارت کو متعارف کرانے کے امکانات پر بھی خصوصی زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی پاکستان کی تجویز پیش کی، تاکہ باقاعدہ رابطے، تکنیکی تبادلے اور تعاون کے مخصوص پروگراموں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ یہ اقدام بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر ناکام ہوں گے، صدر کی جانب سے دی گئی معاشی خود انحصاری کی پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔
لائیو اسٹاک اور ویلیو چین میں سرمایہ کاری
ملاقات میں لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں جانوروں کی افزائش نسل، ویٹرنری سروسز، بیماریوں سے بچاؤ اور ان کا کنٹرول، ڈیری اور گوشت کی پیداوار، جانوروں کی خوراک اور چارے کی تیاری سمیت جدید لائیو اسٹاک ویلیو چینز شامل ہیں۔ رانا تنویر حسین نے دوطرفہ زرعی تجارت بڑھانے اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (SPS) معیارات سے متعلق رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری شعبوں کے درمیان براہ راست روابط اور مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کا نہایت مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ایتھوپیا کے سفیر کا خیرمقدم
ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر اومر حسین اوبا نے زرعی تعاون کو مضبوط بنانے میں پاکستان کی گہری دلچسپی کو سراہا اور ایتھوپیا میں زرعی اجناس اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زراعت، لائیو اسٹاک، تجارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے اپنے ملک کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کو عمومی دلچسپی کے اظہار سے آگے بڑھ کر مخصوص منصوبوں، تکنیکی تعاون، نجی شعبے کی شرکت اور زرعی تجارت میں اضافے پر توجہ دینی چاہیے۔ جیسا کہ پاکستان کی شام پر اسرائیلی فوجی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت جیسے عالمی مسائل پر پاکستان کا موقف واضح ہے، اسی طرح وہ اب اپنی خارجہ تجارت کو بھی مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔