وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آذربائیجان کا آسان خدمت مراکز بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر آذربائیجان الہام علیوف سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لیے کوشاں ہے، جس طرح سپریم کورٹ نے عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
دو طرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور قومی مفادات کے اہم امور پر ایک دوسرے کی حمایت دوطرفہ تعلقات کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام صدر الہام علیوف اور آذربائیجان کے عوام کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی سیاسی ہم آہنگی اور خیرسگالی کو باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے مضبوط تعلقات میں تبدیل کیا جائے گا۔
آسان خدمت مراکز کا دائرہ کار
دوطرفہ تعاون کے جاری منصوبوں پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں آذربائیجان کے ’آسان خدمت‘ (ASAN Khidmet) کے طرز پر قائم مرکز کے کامیاب فعال ہونے پر خصوصی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسے دونوں ممالک کی دوستی کے عوامی سطح پر عملی فوائد کی نمایاں مثال قرار دیا۔ وزیراعظم کی درخواست پر صدر الہام علیوف نے پاکستان بھر میں آسان خدمت مراکز کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے آذربائیجان کی جانب سے مکمل تعاون اور تکنیکی مہارت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ جس طرح حکومت معاشی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اسی طرح صنعتی ترقی اور کاروباری آسانیوں کیلئے حکومت لاہور چیمبر کے ساتھ کام کرے گی تاکہ عوامی سہولت کے منصوبوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔ وزیراعظم نے اس تعاون پر صدر آذربائیجان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کی دیرینہ دوستی اور یکجہتی کا ایک اور مظہر قرار دیا۔
خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششیں
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل مشاورت اور قریبی رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آذربائیجان کو خطے میں امن، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ان کوششوں کے تناظر میں، جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کا معاہدہ بھی خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم قدم رہا ہے۔ صدر الہام علیوف نے مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔ گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مشترکہ ترقی، خوشحالی اور باہمی مفادات پر مبنی دیرپا تعلقات میں تبدیل کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔