مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

بحیرۂ احمر میں کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی انشورنس مہنگی

بحیرۂ احمر میں کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی انشورنس مہنگی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کے بعد بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے جنگی خطرات کے انشورنس اخراجات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس سے عالمی شپنگ، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

بحری انشورنس کے اخراجات میں نمایاں اضافہ

انشورنس شعبے سے وابستہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے باعث ‘جنگی خطرے کا انشورنس پریمیم’ جہاز کی کل مالیت کے تقریباً 0.3 فیصد سے بڑھ کر اب 0.75 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں ہر بحری سفر پر جہاز مالکان کو لاکھوں ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔

باب المندب پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات

رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کے حالیہ اعلان کے بعد باب المندب اور بحیرۂ احمر کی انتہائی اہم آبی گزرگاہ پر سکیورٹی خدشات میں مزید شدت آ گئی ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی منڈیوں اور عالمی سپلائی چین کو براہِ راست متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

توانائی کی ترسیل پر اثرات اور متبادل حکمت عملی

ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر بحیرۂ احمر میں واقع ینبع بندرگاہ کے ذریعے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ توانائی کی سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خلل کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں یہ کشیدگی برقرار رہی تو شپنگ کمپنیاں افریقہ کے جنوبی سرے یعنی کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل اور مہنگے راستے کو اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گی، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کے اخراجات اور عالمی تجارتی لاگت میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں