سعودی عرب کا عمرہ زائرین کے لیے لازمی فوڈ واؤچر کا فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب کی جانب سے عمرہ زائرین کے لیے سہولیات کو مزید جدید اور منظم بنانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت اب عمرہ ویزے کے ساتھ لازمی “نسک میل واؤچر” (Nusuk Meal Voucher) شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق، عمرہ ویزے کی فیس میں روزانہ 20 سعودی ریال کا فوڈ واؤچر شامل ہوگا، جس کے ذریعے زائرین مقرر کردہ اور منظور شدہ مراکز سے معیاری اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کردہ خوراک حاصل کر سکیں گے۔
نئے نظام کا اطلاق اور طریقہ کار
رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کا نفاذ یکم ربیع الاول 1448 ہجری سے عمل میں لایا جائے گا۔ فوڈ واؤچر کی رقم کو الگ سے وصول کرنے کے بجائے اسے عمرہ ویزے کی مجموعی فیس میں ہی ضم کر دیا گیا ہے، تاکہ ادائیگی کا عمل زائرین کے لیے شفاف، سادہ اور منظم ہو سکے۔ اس اقدام سے متعلقہ حکام کو بھی زائرین کی سہولت کاری کے عمل میں بہتر نگرانی کا موقع ملے گا، جس طرح حال ہی میں کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تیز، بین الاقوامی تھرڈ پارٹی تصدیق لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
متاثرہ ممالک اور اہداف
ابتدائی مرحلے میں اس منصوبے کا اطلاق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مصر سے آنے والے عمرہ زائرین پر ہوگا۔ سعودی حکام کا واضح کہنا ہے کہ اس پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کو پرکھنے کے بعد اس نظام کو مرحلہ وار دنیا کے دیگر ممالک تک بھی توسیع دی جائے گی۔ زائرین اب “نسک” (Nusuk) پلیٹ فارم سے منسلک منظور شدہ ریسٹورنٹس اور فوڈ سروسز فراہم کرنے والے اداروں سے اپنے واؤچر کے ذریعے کھانا حاصل کرنے کے پابند ہوں گے۔
ویژن 2030 اور جدید سہولیات
یہ فیصلہ سعودی عرب کے “ویژن 2030” کا حصہ ہے جس کا مقصد حج و عمرہ کی خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جیسی معاشی خبروں کے درمیان اپنی ڈیجیٹل خدمات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح، پاکستان اور جاپان کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس و ویب تھری پر تعاون کے تناظر میں، نسک پلیٹ فارم، آن لائن پرمٹ سسٹم، اور ہوٹل و ٹرانسپورٹ کی پیشگی بکنگ جیسی سہولیات پہلے ہی زائرین کو ایک بہتر اور آسان سفری تجربہ فراہم کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ اس سے عمرہ پیکجز کی لاگت میں معمولی اضافہ ہوگا، لیکن اس کے بدلے زائرین کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنے گی اور خوراک کے ضیاع یا غیر معیاری اشیاء کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔