مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سیالکوٹ کی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کیا جائے، احسن اقبال

سیالکوٹ کی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کیا جائے، احسن اقبال

سیالکوٹ (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے سیالکوٹ کی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنے، برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے اور عالمی منڈیوں میں نئی مصنوعات اور مضبوط پاکستانی برانڈز متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ رات سیالکوٹ میں جرمن۔پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ سفارتی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک جلد باہمی تعلقات کے 75 سال مکمل کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعتوں کو عالمی مسابقت میں برقرار رہنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنا ہوگی۔

عالمی منڈیوں میں پاکستانی برانڈز کی ضرورت

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے عالمی منڈیوں میں نئی مصنوعات اور برانڈز متعارف کرانا ہوں گے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل ہے اور اسی طرح جرمنی کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور فنی تعلیم کے شعبوں میں ایک دوسرے کے لیے معاون شراکت دار بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی انجینئرنگ کے شعبے میں دنیا کا ایک نمایاں ملک ہے اور جرمن کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ تعاون سے پاکستان کی تکنیکی اور صنعتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

نوجوانوں کی فنی تربیت اور معاشی ترقی

احسن اقبال نے کہا کہ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو مضبوط بنا کر پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو پیداواری افرادی قوت میں تبدیل کر سکتا ہے، جو پائیدار معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد بنے گی۔ انہوں نے سیالکوٹ کی فٹ بال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی فٹ بال سیالکوٹ میں مہارت سے تیار کی گئی تھی، جو شہر کی صنعتی صلاحیت کی عالمی شناخت ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس عالمی موقع سے بھرپور فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔

معاشی استحکام اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری

وفاقی وزیر نے 2022 میں حکومت سنبھالنے کے وقت ملک کی مشکل معاشی صورتحال کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اب بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری ایک دہائی میں پہلی بار ہوئی ہے، جو معاشی استحکام کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمان کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی روشن پاکستان کی ضمانت ہے، اس لیے معاشی پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے۔

برآمدی اہداف اور مستقبل کا لائحہ عمل

احسن اقبال نے بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پاکستان ایکسپورٹ کونسل کے قیام کی توقع ہے جس کی سربراہی خود وزیر اعظم کریں گے۔ انہوں نے سیالکوٹ کی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ برآمدات کے اہداف کو 15 سے 25 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے پرعزم ہوں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور حکومت واضح مشن کے ساتھ مل کر کام کریں تو یہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

تقریب میں شرکت

اس موقع پر جرمن۔پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ تقریب میں خرم دستگیر خان، سید ندیم علی کاظمی، محمد منشاء اللہ بٹ، سیدہ نوشین افتخار، چوہدری فیصل اکرام، عبدالغفور ملک سمیت دیگر اہم شخصیات اور کاروباری برادری کے نمائندگان نے شرکت کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں