مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ نئے محصولات آئندہ 30 روز بعد نافذ العمل ہوں گے۔

ٹرمپ کے فیصلے کا دفاع اور پس منظر

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کئی برسوں سے امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور الکوحل پر ایسے محصولات اور پابندیاں عائد کرتا ہے جو امریکی برآمد کنندگان کے لیے نقصان دہ ہیں، اس لیے یہ اقدام امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔ یہ صورتحال عالمی منڈی میں جاری کشیدگی کی ایک کڑی ہے، جس کے اثرات بحیرۂ احمر میں کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی انشورنس مہنگی ہونے جیسے بحرانوں سے موازنہ کیے جا رہے ہیں۔

متاثرہ شعبے اور مستثنیٰ اشیاء

نئے ٹیرف کے تحت شراب، ہاکی اسٹکس، سیمنٹ اور متعدد صنعتی و صارفین کی مصنوعات متاثر ہوں گی، تاہم توانائی، پوٹاش، اہم معدنیات، مچھلی اور بعض دیگر اسٹریٹجک برآمدات کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اہم سپلائی چینز متاثر نہ ہوں۔ جس طرح پاکستان اور کینیڈا کے درمیان کینولا درآمدی پروٹوکول پر دستخط جیسے اقدامات باہمی تجارت کے فروغ کا سبب بنتے ہیں، ٹرمپ کے اس یکطرفہ فیصلے نے دوطرفہ تجارتی تعلقات میں غیریقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

کینیڈا کا جوابی ردعمل اور خدشات

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تجارتی تنازعات کے حل کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مزید تیزی لائے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی اقدام کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کی روح کے منافی ہے اور یہ یکطرفہ تجارتی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ مارک کارنی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کینیڈا اپنے قومی مفادات اور اقتصادی خودمختاری کا ہر ممکن تحفظ کرے گا، جبکہ امریکی حکام کے حالیہ بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ دوسری جانب، دیگر ممالک کی طرح جہاں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی سے برطانیہ کو 4 ارب ڈالر نقصان کا سامنا ہے، کینیڈا کو بھی اپنی معاشی پالیسیوں میں سخت فیصلوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ادھر اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے نئے ٹیرف نافذ کیے تو کینیڈا بھی “ٹیرف کے بدلے ٹیرف، ڈالر کے بدلے ڈالر” کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے متناسب جوابی اقدامات کرے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں