ٹرمپ ایران کے خلاف ایسی سخت کارروائی کیلئے تیار، مارکو روبیو

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایسے ٹھوس اور سخت اقدامات کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں جو ماضی کی کسی بھی امریکی حکومت نے نہیں کیے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران اب مزید بے نتیجہ مذاکرات کے ذریعے وقت ضائع کرنے کی پالیسی جاری نہیں رکھ سکتا اور اسے اپنے جارحانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
ایران کو نئی امریکی پالیسی کا سامنا
مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران نے اپنی تاریخ میں آج تک ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کا سامنا نہیں کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ ایران کو یا تو ایک بامعنی اور قابل عمل معاہدے کی طرف آنا ہوگا یا پھر امریکہ اپنے قومی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔ جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے، احسن اقبال ہتک عزت کیس جیسے معاملات کی طرح امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کے ہر پہلو پر مستعد ہے۔
مذاکرات کے نام پر وقت کا ضیاع ناقابل قبول
امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی برادری سے جھوٹ بولتا رہا ہے، معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کرتا آیا ہے اور مذاکرات کو صرف وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اس طرز عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گی اور ایران کو اب اپنی اس پرانی حکمت عملی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال اس وقت کافی سنگین ہے جب خطے میں سکیورٹی کے نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں، جس کی ایک مثال شمالی وزیرستان میں سکیورٹی آپریشن کی طرح کے خطرات ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا سخت موقف
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ جب تک ایران بامعنی مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا، اسے مسلسل اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق سفارتی حل اب بھی ان کی پہلی ترجیح ہے، تاہم اگر تہران نے مثبت پیش رفت نہ دکھائی تو واشنگٹن میز پر موجود دیگر تمام آپشنز پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جس طرح پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم کا معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہے۔
کشیدگی اور جوہری پروگرام
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور فوجی سرگرمیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر سختی سے عمل پیرا ہے تاکہ اسے نئے اور ٹھوس معاہدے کے لیے آمادہ کیا جا سکے، جبکہ تہران بدستور اپنے سخت مؤقف پر قائم ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں قابلِ تصدیق اور عملی نتائج کا خواہاں ہے اور اس بار محض وعدوں یا غیر مؤثر مفاہمت پر اکتفا نہیں کیا جائے گا۔