مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ای پاسپورٹ کا اجرا

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ای پاسپورٹ کا اجرا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے پاسپورٹ کے اجرا کے نظام میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سفری سہولیات کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک کڑی ہے۔

ای پاسپورٹ کا لازمی اجرا

اعلان کے مطابق، 20 جولائی 2026 سے متحدہ عرب امارات میں پاسپورٹ کی تمام نئی درخواستوں اور تجدید کے عمل کے لیے صرف ای پاسپورٹ (e-Passport) جاری کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کس طرح پاکستان کی آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں کے تناظر میں ملک کے سرکاری امور میں جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دے رہی ہے۔

قونصل خانے کی ہدایات اور وضاحت

دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد پاسپورٹ کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانا اور بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے والی سفری دستاویزات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تیز، بین الاقوامی تھرڈ پارٹی تصدیق لازمی قرار دیے گئے تھے، اور یہ نئی پالیسی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

قونصل خانے نے ان شہریوں کے لیے بھی وضاحت جاری کی ہے جن کے پاس موجودہ پاسپورٹس موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جاری کیے گئے مشین ریڈیبل پاسپورٹس (MRP) اپنی میعاد ختم ہونے تک بدستور قابلِ استعمال رہیں گے۔ لہٰذا، ان پاسپورٹس کے حامل افراد کو فوری طور پر ای پاسپورٹ حاصل کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔

ای پاسپورٹ کی اہمیت اور فوائد

ای پاسپورٹ میں جدید الیکٹرانک چِپ نصب ہوتی ہے، جس میں پاسپورٹ ہولڈر کی بائیو میٹرک معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت سفری دستاویزات کی سکیورٹی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ ای پاسپورٹ نہ صرف جعلسازی کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، بلکہ دنیا بھر کے ایئرپورٹس پر امیگریشن کے مراحل کو زیادہ تیز، آسان اور محفوظ بنانے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس سے قبل پاکستان اور جاپان کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس و ویب تھری پر تعاون جیسے اقدامات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے لیے کوشاں ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں