مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکہ نے ساٹھ سے زائد ممالک پر نئے تجارتی ٹیرف نافذ کر دیے

امریکہ نے ساٹھ سے زائد ممالک پر نئے تجارتی ٹیرف نافذ کر دیے

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی تجارت کے حوالے سے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 60 سے زائد تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد جبری مشقت (Forced Labour) کے ذریعے تیار ہونے والی مصنوعات کو امریکی منڈی میں داخل ہونے سے روکنا، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور عالمی سپلائی چین میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ حکومتیں معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہیں، اسی طرح آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ڈیجیٹل معیشت کا ثمر ہے، وزیراعظم نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی پالیسیوں کو عالمی معیارات کے مطابق ڈھالے گا۔

نئی ٹیرف پالیسی اور عالمی اثرات

فنانشل ٹائمز اور اے بی سی نیوز کی رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ایسے ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 سے 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف نافذ کیا جائے گا جہاں امریکی حکام کے مطابق جبری مشقت کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ یہ محصولات 24 جولائی سے نافذ العمل ہو رہے ہیں اور ان کا اطلاق درجنوں ممالک سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات پر ہوگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی عالمی تجارت کو انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔ انتظامیہ کے مطابق دنیا بھر کی سپلائی چین میں جبری مشقت، خصوصاً بعض صنعتی اور پیداواری شعبوں میں، ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور امریکہ ایسی مصنوعات کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتا ہے۔

متاثرہ ممالک اور استثنائی شعبے

رپورٹس کے مطابق ان نئے ٹیرف سے متاثر ہونے والے ممالک میں چین، یورپی یونین کے رکن ممالک، بھارت، کینیڈا، میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، ویتنام، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکی، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر اہم تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان ممالک سے آنے والی بعض مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کیے جائیں گے، جبکہ چند ضروری اشیا کو اس سے استثنا دیا گیا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق خام تیل، قدرتی گیس، بعض معدنیات، کھاد، اسٹیل، ایلومینیم اور چند دیگر حساس شعبوں کی مصنوعات کو نئے ٹیرف سے جزوی یا مکمل استثنا حاصل ہوگا تاکہ عالمی توانائی اور صنعتی سپلائی متاثر نہ ہو۔ اس طرح کے عالمی اقدامات کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی چینی کمپنی فیمسن کے وفد سے ملاقات جیسے رابطے پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

صنعتی حکمت عملی اور عالمی ردعمل

فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس اقدام کو صرف ایک تجارتی پالیسی نہیں بلکہ ایک وسیع صنعتی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے، جس کے ذریعے امریکہ اپنی مقامی صنعتوں کو تحفظ دینے، حساس شعبوں میں درآمدی انحصار کم کرنے اور سپلائی چین کو زیادہ محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے ممالک کے خلاف مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو امریکی تجارتی اور انسانی حقوق کے معیار پر پورا نہیں اتریں گے۔ دوسری جانب متعدد ممالک نے امریکی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین، چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کا کہنا ہے کہ یکطرفہ ٹیرف عالمی تجارتی نظام، عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے اصولوں اور آزاد تجارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکی اقدامات کا قانونی اور تجارتی سطح پر جواب دینے پر غور کر رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کی آراء اور عالمی معیشت

معاشی ماہرین کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی کے اثرات عالمی سپلائی چین، ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس، آٹو پارٹس، شمسی توانائی کے آلات، مشینری اور دیگر برآمدی شعبوں پر مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تجارت کی رفتار سست ہونے، پیداواری لاگت بڑھنے اور صارفین کے لیے اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان یہ نیا تجارتی تنازع آئندہ مہینوں میں عالمی معیشت، سرمایہ کاری، بین الاقوامی سپلائی چین اور جغرافیائی سیاسی تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ متاثرہ ممالک اس امریکی اقدام کے جواب میں کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جیسے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اے آر ایف اجلاس سے خطاب میں علاقائی تعاون پر زور دیا گیا، دنیا اب باہمی ٹکراؤ کے بجائے تجارتی ہم آہنگی کی متقاضی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں