ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں شکست دے دی

ٹرینیڈاڈ (نمائندہ خصوصی)۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ پانچویں اور آخری روز 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم محض 120 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور میزبان ٹیم نے اپنی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت میچ اپنے نام کر لیا۔ پاکستان نے آخری روز اپنی دوسری اننگز کا آغاز دو وکٹوں پر 21 رنز سے کیا تھا، تاہم ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلرز نے ابتدا ہی سے قومی بیٹنگ لائن کو شدید دباؤ میں رکھا۔ وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں اور پاکستان کا مڈل آرڈر ایک بار پھر خاطر خواہ مزاحمت نہ کر سکا۔ کپتان بابر اعظم نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور ناقابل شکست 58 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جبکہ آخری نمبر پر آنے والے محمد عباس نے 23 رنز بنا کر کچھ دیر مزاحمت کی، لیکن یہ کوشش ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔
ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کا جادو
ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر جےڈن سیلز نے دوسری اننگز میں تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جسٹن گریوز نے تین اور کیمار روچ نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ میزبان باؤلرز نے پوری اننگز کے دوران پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے تھے۔ کیوم ہوج نے 89 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جبکہ شائے ہوپ نے 48 اور روسٹن چیز نے 47 رنز کا اضافہ کیا۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے چار، محمد علی نے تین اور عامر جمال نے دو وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم 311 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی پہلی اننگز اور شان مسعود کی سنچری
جواب میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 282 رنز بنائے اور 29 رنز کے خسارے کا شکار رہا۔ سابق کپتان شان مسعود نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 109 رنز کی سنچری اسکور کی، جبکہ امام الحق نے 63 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں بلے بازوں نے اہم شراکت قائم کرکے پاکستان کو مشکلات سے نکالا، تاہم دیگر بلے باز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جسٹن گریوز نے پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ کیمار روچ اور جےڈن سیلز نے دو، دو وکٹیں اپنے نام کیں۔
دوسری اننگز کا احوال
دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز نے 181 رنز بنا کر پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف دیا۔ کیوم ہوج نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 48 رنز اسکور کیے، جبکہ ٹیگنرائن چندرپال نے 35 اور جسٹن گریوز نے 26 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے ایک اور شاندار اسپیل کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ 211 رنز کا ہدف بظاہر زیادہ بڑا نہیں تھا، لیکن وکٹ کی غیر متوازن باؤنس اور ویسٹ انڈین باؤلرز کی نظم و ضبط سے بھرپور باؤلنگ نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت سفارتی مشنز کی تنظیم نو کا اجلاس جیسے اہم امور کے برعکس، کھیل کے میدان میں ٹیم کی حکمت عملی ناکام رہی۔ بابر اعظم کے علاوہ کوئی بھی بلے باز بڑی اننگز نہ کھیل سکا اور پوری ٹیم صرف 120 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ میچ میں پاکستان کے لیے شان مسعود کی پہلی اننگز کی سنچری، امام الحق کی نصف سنچری، بابر اعظم کی ناقابل شکست اننگز اور محمد عباس کی مجموعی طور پر عمدہ باؤلنگ نمایاں رہیں، تاہم اجتماعی طور پر بیٹنگ کی ناکامی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔ وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے قرضوں میں اضافے کی ہدایت کی طرح کرکٹ میں بھی درست سمت کا تعین ضروری ہے۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز نے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں متوازن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور پر جےڈن سیلز اور جسٹن گریوز کی باؤلنگ نے میچ کا رخ میزبان ٹیم کے حق میں موڑ دیا، جبکہ کیوم ہوج دونوں اننگز میں نمایاں بیٹنگ کے باعث ویسٹ انڈیز کی کامیابی کے اہم معمار ثابت ہوئے۔ پاکستان نے 2030 تک کے لیے نئی طویل المدتی حج پالیسی متعارف کرا دی ہے، اسی طرح اب قومی ٹیم کو بھی طویل المدتی پلاننگ کی ضرورت ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ویسٹ انڈیز نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی، جبکہ پاکستان کے لیے دوسرا اور آخری ٹیسٹ سیریز بچانے کی جنگ بن گیا ہے۔ قومی ٹیم کو سیریز برابر کرنے کے لیے اگلا میچ ہر صورت جیتنا ہوگا، جبکہ ویسٹ انڈیز کلین سوئپ کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔